اقوامِ متحدہ،6 جون ( اے پی پی): پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر ہونے والے مباحثے کے دوران بھارتی نمائندے کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت حقائق سے انکار اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے بجائے سلامتی کونسل کی رپورٹ کا بغور مطالعہ کرے، جس میں جموں و کشمیر تنازعے سے متعلق اہم حقائق واضح طور پر درج ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے قونصلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سَرواَنی نے حقِ جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی میں اظہارِ خیال کرنے والے متعدد وفود نے سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ کے تعارفی حصے کی تیاری اور بروقت اتفاقِ رائے سے منظوری میں پاکستان کے کردار کو سراہا، تاہم بھارتی نمائندے نے صرف ان حصوں پر توجہ دی جو جموں و کشمیر کے تنازعے سے متعلق حقائق کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق جائزہ مدت کے دوران بھارت-پاکستان سوال سے متعلق بیس سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیے گئے، جبکہ 5 مئی 2025 کو سلامتی کونسل نے علاقائی سلامتی کی صورتحال اور بھارت کے جارحانہ طرزِ عمل کے باعث بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لینے کے لیے بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی۔
گل قیصر سَرواَنی نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس کی تاریخی، قانونی اور بین الاقوامی حیثیت کو مسخ کرنے کی کوئی بھی کوشش زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں جن میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن کشمیری عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، بنیادی آزادیوں پر پابندیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششوں اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی جانب سے 16 اکتوبر 2025 کو جاری کیے گئے مشترکہ مراسلے کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے مسلسل انکار کر رہا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جن میں آرٹیکل 25 بھی شامل ہے، جو رکن ممالک کو سلامتی کونسل کے فیصلوں کو قبول اور نافذ کرنے کا پابند بناتا ہے۔
گل قیصر سَرواَنی نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف الزامات کے ذریعے توجہ ہٹانے کی بھارتی کوششیں اس کے اپنے ریکارڈ پر پردہ نہیں ڈال سکتیں، جس میں پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، بیرونِ ممالک مبینہ ریاستی سرپرستی میں قتل کی مہمات، اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینا، خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کی حمایت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کی بھارتی کوششوں کو بھی بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا۔











