سلامتی کونسل: پاکستان کا تنازعات کے پُرامن حل کے لیے بروقت سفارت کاری اور قراردادوں پر عملدرآمد پر زور

2

نیویارک، 24 جولائی (اے پی پی(ا:قوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 کے بعد تنازعات کے پُرامن حل کو مزید مؤثر بنانے کے موضوع پر اعلیٰ سطحی کھلا مباحثہ منعقد ہوا، جس میں پاکستان نے تنازعات کی روک تھام، بروقت سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے دیرپا امن کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں پاکستان نے تنازعات کے پُرامن تصفیے کے لیے مؤثر سفارت کاری، بروقت اقدام اور روک تھام پر مبنی حکمتِ عملی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی قائدانہ صلاحیتوں اور منشور کے دفاع میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پیش کردہ سفارشات مستقبل بین اور عملی ہیں۔ اگر ان سفارشات پر مستقل مزاجی، مناسب وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو اس سے منشور کے باب ششم کے وعدوں کو عملی شکل دینے میں مدد ملے گی۔

سفیر عاصم افتخار نے یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ سال پاکستان کی صدارت میں منظور کی گئی قرارداد 2788 اس بات کی عکاس تھی کہ سفارت کاری کو امن کی ناکامی کا منتظر ہونے کے بجائے امن کو بچانے کا اولین راستہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 33 اور 34 تنازعات کے حل کا مکمل طریقہ کار فراہم کرتے ہیں، لیکن اصل کمی ان کے بروقت، غیر جانبدارانہ اور مستقل استعمال کے فقدان میں ہے۔

جنوبی ایشیا میں امن کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ خطے میں استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازع ہے، جو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں حقِ خودارادیت (استصوابِ رائے) دینے کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے مغربی ایشیا میں تنازعات کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ برادر ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر کے رابطے بحال کرائے، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت )ایم او یو)طے پائی اور باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جو پُرعزم سفارت کاری کا روشن ثبوت ہے۔