برطانوی ہائی کمشنر کی وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک سے ملاقات؛ گرین کمپیکٹ کے نفاذ اور آئندہ لائحۂ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال

1

اسلام آباد، 9 جون (اے پی پی): پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے منگل کو یہاں ملاقات کی، جس میں پاک برطانیہ “گرین کمپیکٹ” کے نفاذ اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

گرین کمپیکٹ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان 35 ملین پاؤنڈ مالیت کا ایک دوطرفہ موسمیاتی تعاون کا فریم ورک ہے، جس کا مقصد پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے اور موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔

ملاقات کے دوران برطانوی ہائی کمشنر نے گرین کمپیکٹ کے ایکشن پلان پر بریفنگ دی اور اس کے اہم اہداف اور مجوزہ شعبہ ہائے تعاون سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گرین کمپیکٹ کے تحت ایسے اقدامات اور منصوبے تشکیل دیے جانے چاہئیں جو عوام کے لیے مؤثر اور دیرپا نتائج پیدا کریں۔

وفاقی وزیر نے برطانوی ہائی کمشنر کو اسلام آباد میں “گرین یونیورسٹی” کے قیام کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں اٹلی سمیت مختلف بین الاقوامی شراکت داروں اور آرکٹک سرکل سے وابستہ اداروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی  میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تعاون سے قائم “گرین ٹیک ہب” کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد گرین ٹیکنالوجیز اور پائیدار کاروباری منصوبوں پر کام کرنے والے نوجوان کاروباری افراد کی معاونت کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے اصرار کیا کہ نوجوانوں کو صرف گرین انٹرپرینیورشپ تک محدود معاونت فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں تحقیق، جدت اور ایسے عملی حل پیدا کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں جو ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں حقیقی مددگار ثابت ہوں۔

جین میریٹ نے وفاقی وزیر کو برطانیہ کے یوتھ انٹرپرینیورشپ پروگرامز اور برطانوی ہائی کمیشن کے اشتراک سے پاکستان میں جاری مختلف منصوبوں کے بارے میں بتایا، جن کا محور موسمیاتی مزاحمت اور ماحول دوست حل کو فروغ دینا ہے۔

ملاقات میں ملک بھر میں ابتدائی وارننگ سسٹمزکو مزید مؤثر بنانے اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو بہتر کرنے کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔