اسلام آباد، 04 جون (اے پی پی ): پاکستان میں جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں مستحق افراد کی رجسٹریشن کے لیے سات نئی موبائل رجسٹریشن وینز کا اضافہ کیا گیا ہے، تاہم یہ کسی نئے پروگرام کا آغاز نہیں بلکہ جاری اقدامات کا تسلسل ہے۔
بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کے ہمراہ سات نئی موبائل رجسٹریشن وینز کی افتتاحی تقریب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے جرمن سفیر اینا لیپل نے کہا کہ اس وقت پہلے ہی 25 موبائل رجسٹریشن وینز کام کر رہی ہیں جبکہ نئی سات وینز کی شمولیت کے بعد ان کی مجموعی تعداد 32 ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان وینز کا مقصد ملک کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے افراد تک پہنچنا اور انہیں بی آئی ایس پی پروگرام میں رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی اہلیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی اور بی آئی ایس پی نے 2022 میں اس پروگرام کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک تقریباً 13 لاکھ افراد کی رجسٹریشن میں مدد فراہم کی جا چکی ہے۔
اینا لیپل نے کہا کہ یہ تعاون 2022 سے جاری ہے اور آئندہ بھی بی آئی ایس پی کے ساتھ شراکت داری برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق مسلسل رابطے اور مشاورت کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ پروگرام کو مزید مؤثر بنانے اور مستحق افراد کی بہتر معاونت کے لیے کس نوعیت کا تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے۔
جرمن سفیر نے کہا کہ جرمنی صرف موبائل رجسٹریشن وینز کے منصوبے میں ہی بی آئی ایس پی کی معاونت نہیں کر رہا بلکہ دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر نیشنل نیوٹریشن پروگرام کی بھی حمایت کر رہا ہے، جس کا مقصد سماجی تحفظ کے اقدامات کو بہتر غذائیت سے جوڑنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی ایڈاپٹو سوشل پروٹیکشن پروگرام کی معاونت بھی کر رہا ہے، جس کا مقصد سماجی تحفظ کے نظام کو موسمیاتی تبدیلی جیسے متوقع چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اور لچکدار بنانا ہے۔











