اسلام آباد، 22 جون (اے پی پی ): وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کی اصلاحات اور اقدامات کے باعث دنیا میں پاکستان کے پاسپورٹ کی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے جبکہ غیر قانونی انسانی سمگلنگ اور اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کے خلاف کارروائیوں کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔
پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزارت داخلہ و انسداد منشیات سے متعلق مطالبات زر پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکوں پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ماتحت مختلف فورسز اندرونی سلامتی کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں اور حکومت کی جانب سے متعدد اصلاحاتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی فرانزک ایجنسی اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کا قیام بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز میں بہتری اور امیگریشن قوانین میں تبدیلیوں کے باعث پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے جبکہ متعدد ممالک کے ساتھ بلیو اور ریڈ پاسپورٹ پر ویزہ فری سہولت کے معاہدے بھی طے پائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں نادرا دفاتر کو بھی پاسپورٹ کے اجراء کے نظام سے منسلک کیا جائے گا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود انسداد منشیات کے شعبے میں مؤثر کارروائیاں کی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد منشیات فورس کی استعداد کار میں اضافے کے لیے مزید افرادی قوت شامل کرنے کی منظوری بھی حاصل کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کی گئی ہے اور نیکٹا کو فعال بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ایف آئی اے میں اصلاحات کے تحت غیر ضروری ڈیپوٹیشن ختم کی گئی اور داخلی احتساب کے عمل کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں اس رجحان میں نمایاں کمی آئی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے قائم نئے ادارے نے شکایات کے ازالے اور قانون کے نفاذ کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کیا ہے جبکہ مالیاتی جرائم کی روک تھام کے لیے بھی کارروائیاں کی گئیں ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں اور جدید شہری سہولتوں کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے اور اسلام آباد کو جدید طرز کا سمارٹ سٹی بنانے کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارت داخلہ سے متعلق امور پر پارلیمان اور متعلقہ فورمز میں ہر سطح پر تفصیلی مشاورت اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔











