لاہور، 22 جون(اے پی پی): ریورنڈ ڈاکٹر مجید ایبل کی زیر قیادت نولکھا پریسبیٹیرین چرچ لاہور میں “محرم یکجہتی ناشتہ” کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ممتاز مذہبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کو بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال قرار دیا گیا۔تقریب میں آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل، فادر جیمز چنن، مفتی عاشق حسین، پروفیسر بدر منیر، مولانا عاصم مخدوم، ساجد کرسٹوفر، علامہ اصغر چشتی اور پروفیسر سہیل احمد سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک ہوئیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریورنڈ ڈاکٹر مجید ایبل نے کہا کہ محرم الحرام امن، صبر، قربانی اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے افراد کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا قومی یکجہتی اور باہمی احترام کی روشن علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین المذاہب مکالمہ معاشرے میں اعتماد، احترام اور محبت کو فروغ دیتا ہے اور پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔مولانا عاصم مخدوم نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی پوری انسانیت کے لیے حق، انصاف، حریت اور استقامت کا پیغام ہے۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر پر زور دیا کہ وہ اتحاد، برداشت اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔آرچ بشپ ڈاکٹر آزاد مارشل نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس مقصد کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ فادر جیمز چنن نے کہا کہ پنجاب حکومت نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اور بہترین انتظامات کیے ہیں۔مفتی عاشق حسین نے محرم الحرام کے دوران امن نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور امن کے قیام کے لیے علماء اور مذہبی قائدین کی ذمہ داریاں انتہائی اہم ہیں۔پروفیسر سہیل احمد نے کہا کہ محرم الحرام اتحاد، اتفاق اور امن کا درس دیتا ہے اور ہمیں حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے معاشرے میں محبت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور محرم الحرام کے دوران امن و امان کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔











