دنیا میں 80 لاکھ افراد سالانہ تمباکو نوشی کی وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں ، ڈاکٹر مرید حسین ملک

9

ملتان ، 01جون (اے پی پی ): چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف جینڈر سٹڈیز بہاؤد الدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر مرید حسین ملک نے کہا ہے کہ دنیا میں 80 لاکھ افراد سالانہ تمباکو نوشی کی وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں، تمباکو نوشی انسانی زندگی کیلئے زہر قاتل ہے یہ  معاشرے میں استعمال ہونے والا سب سے عام نشہ سگریٹ ہے بدقسمتی سے اسے نشہ ہی نہیں سمجھا جاتا مگر در حقیقت یہ ایک سنگین بیماری ہے جوانسان کو موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ انسداد تمباکو نوشی کے موقع پر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن ملتان کے زیراہتمام ملتان پوسٹ گریجویٹ کالج ملتان میں ڈی ایس جی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستان اور فورٹین سٹریٹ پیزا ملتان کے تعاون سے منعقدہ سیمینار و شعوری آگاہی واک سے صدارتی خطاب میں کیا جس کے مہمانان خصوصی میں سابق چیئرمین اوورسیز پاکستانیز کمیشن و سجادہ نشین دربار عالیہ حضرت داو ٔد جہانیاں ملتان مخدوم شعیب اکمل ہاشمی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لٹریسی مظفر گڑھ ڈاکٹر طاہرہ رفیق اور صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم، شامل تھے جبکہ دیگر شرکاء  خاص میں سیاسی و سماجی رہنما رشید عباس خان، سید عاصم رضا شاہ نقوی، حافظ محمد وقاص، حسیب احمد و دیگر شریک تھے۔  اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مخدوم شعیب اکمل ہاشمی نے کہا کہ دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد ریکارڈ ایک ارب دس کروڑ تک پہنچ گئی ہے یہی نہیں بلکہ سینکڑوں ارب روپے کا ٹیکس بھی چوری ہورہا ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ رفیق نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی سے پندرہ مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں جس میں پھیپھڑوں کا کینسر اور دل کا دورہ سر فہرست ہے اس کے باوجود لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ پاکستان میں سگریٹ و تمباکو استعمال کرنے والے افراد کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔  رشید عباس خان اور سید عاصم رضا شاہ نقوی نے کہا کہ تمباکو نوشی میں اضافے کا بڑا سبب نوجوان طبقہ ہے جو شوقیہ طور پر سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور پھر وہ ہیروئن، چرس، تمباکو پان، گٹکا، شیشہ اور دوسرے بہت سے نشوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں نئی نسل میں اس حوالے سے شعوری آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔  میزبان نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک شخص موت کو گلے لگا رہا ہے اس طرح دنیا بھر میں ہر سال اسی لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں 31 مئی انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کی مناسبت سے ہمیں زیادہ سے زیادہ لوگوں میں اس کے نقصانات کو اجاگر کرنا چاہئے۔ حافظ محمد وقاص، حسیب احمد، شاہ فہد، محمد سلیمان، افضال سلیم خان، و دیگر نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوششیں تو کی جارہی ہیں مگر وہ سب نہ ہونے کے برابر ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے سخت قوانین بنائے تاکہ اس کے استعمال سے جو سالانہ لاکھوں افراد موت کے منہ میں جانے پر مجبور ہورہے ہیں ان کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں ۔ اس موقع پر طلبا ودیگر نے بھی خطاب کیاسیمینار کے اختتام پر کالج سے مین شاہراہ تک شعوری آگہی واک کا اہتمام کیا گیا۔