اسلام آباد، 25 جون (اے پی پی ): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف شعبوں سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں 15 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 9 بڑے منصوبے مزید غور و منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیے گئے۔
اجلاس میں منصوبہ بندی، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں کے منصوبے زیر غور آئے۔ منظور کیے گئے منصوبوں میں آزاد کشمیر کے اسپتالوں کے لیے سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ای اسپورٹس اریناز اور تربیتی مراکز کا قیام، جیو اے آئی ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن ہب، روبوٹکس سینٹر آف ایکسی لینس، بجلی کی تقسیم کے نظام کی بہتری اور مختلف سڑکوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن شامل ہیں۔
اجلاس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق اہم منصوبوں کو بھی ایکنک کے لیے سفارشات کے ساتھ منظور کیا گیا۔ ان میں ایمرجنگ ٹیکنالوجیز ڈیٹا سینٹر، نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ پروگرام اور پاکستان کمیونیکیشن سیٹلائٹ-2 (پاک سیٹ-2) شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، ڈیٹا سیکیورٹی اور مواصلاتی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
ٹرانسپورٹ و مواصلات کے شعبے میں لالہ موسیٰ بائی پاس، ایم ایل-3 ریلوے ٹریک اپ گریڈیشن، مشخیل-چھیدگی روڈ اور رتھوعہ ہریام پل کے منصوبے بھی ایکنک کو بھجوا دیے گئے۔ اجلاس میں آزاد کشمیر کے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری اور اسلام آباد پولیس کے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے قیام سے متعلق منصوبوں پر بھی پیش رفت کی گئی۔
اس موقع پر احسن اقبال نے کہا کہ منظور شدہ منصوبے حکومت کے “اڑان پاکستان” وژن کے مطابق ہیں جن کا مقصد ڈیجیٹل تبدیلی، جدید انفراسٹرکچر، بہتر رابطہ کاری اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پاکستان کو علم پر مبنی اور مسابقتی معیشت بنانے میں مدد دے گی۔











