سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات اور قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا مشترکہ اجلاس

1

اسلام آباد،08جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات اور قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا مشترکہ اجلاس پیر کو دونوں کمیٹیوں کے چیئرمین سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر قرۃ العین مری کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، شہادت اعوان، منظور احمد کاکڑ، سیف اللہ ابڑو، جام سیف اللہ خان، دوست علی جیسر، محمد طلحہ محمود، محمد ابوالقادر، میر دوستین خان ڈومکی، ڈاکٹر افنان اللہ خان اور عبدالواسع نے شرکت کی۔اجلاس میں سکھر-حیدرآباد موٹروے (ایم-6) منصوبے اور دیگر قومی شاہراہی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔سینیٹر پرویز رشید نے ایم-6 منصوبے کو ایوان میں زیر غور لانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کی ایک اہم اور طویل عرصے سے باقی ماندہ کڑی قرار دیا۔سیکریٹری منصوبہ بندی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت ایم-6 منصوبے کے لیے 20 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ منصوبے کی مجموعی مالی ضرورت 70 ارب روپے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حتمی فنڈز کی منظوری مزید مشاورت کے بعد دی جائے گی۔کمیٹی اراکین نے منصوبے پر سست رفتار پیش رفت اور ناکافی فنڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ 306 کلومیٹر طویل ایم-6 سیکشن، 1,522 کلومیٹر پر مشتمل پشاور تا کراچی موٹروے راہداری کا واحد نامکمل حصہ ہے۔ انہوں نے موجودہ فنڈنگ طریقہ کار کو منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر کا سبب قرار دیا۔چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے کمیٹی کو بتایا کہ منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور زمین کے حصول کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔متعدد اراکین نے متعلقہ وفاقی وزیر کی عدم موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا اور کہا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے وزارتی نگرانی ناگزیر ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک، اوپیک فنڈ اور سعودی سرمایہ کاروں سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی معاونت کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔اجلاس میں بلوچستان کی سڑکوں کی ابتر صورتحال بالخصوص کوئٹہ-ڈیرہ اسماعیل خان، گوادر-کراچی اور این-25 شاہراہوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے ان منصوبوں کو ان کی تذویراتی اور معاشی اہمیت کے پیش نظر ترجیح دینے پر زور دیا۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے ناکافی سالانہ فنڈز کے مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فنڈز اور ٹھیکیداروں کی ادائیگیاں بروقت یقینی بنائی جائیں۔سینیٹر محمد طلحہ محمود نے چترال کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی خراب حالت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فوری بحالی اور ترقیاتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں 286 کلومیٹر طویل گلگت-شندور روڈ منصوبے پر بھی غور کیا گیا جسے قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) کے متبادل راستے کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ وزارت اس منصوبے پر فعال طور پر کام کر رہی ہے تاکہ علاقائی روابط بہتر بنائے جا سکیں اور عوام کو متبادل سفری راہداری میسر آ سکے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ نئے منصوبوں کے آغاز سے قبل جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی جائے۔ مزید سفارش کی گئی کہ ایم-6 منصوبے کے لیے درکار مکمل 70 ارب روپے مختص کیے جائیں اور یہ سفارشات قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کو ارسال کی جائیں۔چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ ایم-6 منصوبے کے مختلف حصوں پر ستمبر اور نومبر 2026ء تک کام شروع کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کریں۔ کمیٹی نے این-8 شاہراہ منصوبے کو بھی فنڈنگ میں ترجیح دینے کی سفارش کی۔ مزید برآں اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کا آغاز صرف اس صورت میں کیا جائے جب ان کی تکمیل کے لیے درکار مالی وسائل دستیاب ہوں۔ کمیٹی نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ ایم-6 منصوبے کے مختلف حصوں پر بروقت کام شروع کیا جائے اور قومی اہمیت کے حامل انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مناسب فنڈنگ یقینی بنائی جائے۔