اقوام متحدہ، 4 جون ( اے پی پی): پاکستان نے کسی بھی فرد، کسی بھی جگہ اور کسی بھی صورت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن عالمی تخفیفِ اسلحہ کے نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔
آج مشرقِ وسطیٰ (کیمیائی ہتھیار/شام) سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اس کنونشن کی عالمگیریت اور اس کے مکمل، مؤثر اور غیر امتیازی نفاذ کے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے شام کی حکومت کی جانب سے تنظیم برائے انسدادِ کیمیائی ہتھیار کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کو سراہا اور کہا کہ یہ تعاون کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ باقیات کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
او پی سی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں کہا گیا ہے کہ 26 میں سے 19 زیر التوا امور اب بھی حل طلب ہیں، نائب مستقل مندوب، نے کہا کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ ان مقامات کی نشاندہی جاری رکھے ہوئے ہے جو کنونشن کے تحت قابلِ اعلامیہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکرٹریٹ نے “ضروریات اور خلا کے جائزے” کے تحت ان کمزوریوں اور خلا کی ایک غیر حتمی فہرست بھی تیار کی ہے جو شامی حکام کی فراہمی اور ان کی دستیاب استعداد کے درمیان موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی سیکیورٹی صورتحال اور بعض علاقوں پر قبضے کی کیفیت بروقت اور مؤثر عملدرآمد میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ شامی حکام کو درپیش رکاوٹوں اور چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ان کی استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے اور ان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعاون کئی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے، جن میں مشتبہ مقامات کی نوعیت، ادارہ جاتی محدودیتیں، اور شامی قومی ٹیموں کی کیمیائی گولہ بارود کی ہینڈلنگ، نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے سے متعلق محدود تکنیکی صلاحیت اور تجربہ شامل ہیں۔
انہوں نے ان تمام فریقین کی بھی تعریف کی جو شامی حکام کی استعداد بڑھانے اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔
انہوں نے او پی سی ڈبلیو ٹیکنیکل سیکرٹریٹ پر زور دیا کہ وہ کنونشن کے مطابق اپنی آزادانہ تصدیقی ذمہ داریاں جاری رکھے تاکہ شام میں موجود مشتبہ کیمیائی ہتھیاروں اور ان کے پھیلاؤ کے کسی بھی خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ٹیکنیکل سیکرٹریٹ اور شامی حکام کے درمیان جاری مثبت روابط مزید مضبوط بنیاد فراہم کریں گے تاکہ تمام زیر التوا امور جلد از جلد حل ہوں اور اس فائل کو بند کیا جا سکے۔











