پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس: حکومت کا ترقی، ریلیف اور برآمدات پر مبنی معاشی ایجنڈا

1

اسلام آباد، 13 جون(اے پی پی ):گزشتہ روز قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہفتہ کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے شرکت کی۔

پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم نے میڈیا کو بجٹ کے اہم نکات سے آگاہ کیا اور صحافیوں کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام کے مرحلے سے آگے بڑھ کر اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ 2026-27 عوام، تنخواہ دار طبقے، کسانوں اور کاروباری برادری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف، برآمدات کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ نوجوانوں اور کسانوں کے لیے قرضہ پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں جبکہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے خصوصی مراعات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کو فعال بنانے کے لیے ٹیکسوں میں نرمی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بجٹ کا بنیادی مقصد برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔

پریس کانفرنس میں حکومتی ٹیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ بجٹ پاکستان کو معاشی استحکام سے ترقی کے نئے مرحلے میں لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔