اسلام آباد، 13 جون (اے پی پی ): قومی اسمبلی میں بجٹ 2025-26 پر بحث کے دوران اپوزیشن کی رکن اسمبلی شہلا رضا نے وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف کی شرائط سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیح عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے بجائے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تجاویز پر عملدرآمد دکھائی دیتی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو گزشتہ دو برسوں میں 2200 ارب روپے کے شارٹ فال کا شکار رہا ہے اور نئے ٹیکس عائد کرنے کے باوجود مقررہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کا دو سالہ شارٹ فال آئی ایم ایف سے حاصل کیے گئے فنڈز سے بھی زیادہ ہے۔
شہلا رضا نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں نمایاں اضافہ بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی کے ذریعے ہوا ہے اور مختصر عرصے میں 1205 ارب روپے صرف اسی مد میں جمع کیے گئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سپر فلڈ کے نام پر عارضی طور پر لگائی جانے والی لیوی کو مستقل آمدنی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے جبکہ کاربن لیوی بھی ماحولیاتی تبدیلی کے نام پر عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔
انہوں نے معاشی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ اسی طرح زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی جبکہ ہدف 4.5 فیصد تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صرف مئی کے مہینے میں آٹے کی قیمت میں 11.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اپوزیشن رکن نے آبی وسائل کے شعبے کے لیے مختص فنڈز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت آبی وسائل نے 969 ارب روپے کی ضرورت ظاہر کی تھی لیکن بجٹ میں اس کے مقابلے میں 100 ارب روپے سے کچھ زائد رقم رکھی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بڑے ڈیموں اور آبی منصوبوں پر توجہ دے تو خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے انہیں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی جانب جانے سے روکا جا سکے گا۔
شہلا رضا نے تجویز پیش کی کہ ریونیو وصولی کی ذمہ داری صوبوں کو منتقل کی جائے کیونکہ ان کے بقول صوبائی حکومتیں یہ کام زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔











