لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس؛ پاکستان کا اسرائیلی بربریت کے خلاف سخت سفارتی ردعمل

20

  اقوامِ متحدہ، 02 جون ( اے پی پی): لبنان کی حالیہ صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بلاامتیاز قتل و غارت، جبری بے دخلی اور قبضہ وہی حکمتِ عملی، وہی طریقۂ کار ہے جسے ہم دیگر مقامات پر بھی دیکھ چکے ہیں۔لبنان بھر میں عام شہری تشدد، جبری نقل مکانی اور جانی نقصان کی ہولناک شدت کا سامنا کر رہے ہیں۔

جنگ بندی کے انتظام اور اسرائیل و لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے باوجود، لبنان میں سلامتی اور انسانی صورتحال مسلسل اور سنگین حد تک بگڑتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور لبنانی سرزمین میں زمینی دراندازیاں میں مزید  بڑھ رہی ہیں ۔ لبنان کے تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر رقبے، جو ملک کے لگ بھگ 20 فیصد کے برابر ہے، پر اب غیر قانونی اسرائیلی قبضہ قائم ہے۔ غیر قانونی انخلا کے احکامات بھی شہری آبادی کی مشکلات اور مصائب میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یونیسکو کے زیرِ تحفظ عالمی ورثہ قرار دیا گیا شہر صور بھی حملے کی زد میں آیا ہے، جبکہ بیوفورٹ قلعہ  پر قبضے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تمام ان سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا ہے، اور ہم سیکرٹری جنرل کی اس اپیل کی توثیق کرتے ہیں کہ تمام فریقین سفارتی ذرائع کو مکمل طور پر بروئے کار لائیں اور قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کے عزم کی تجدید کریں۔ پائیدار امن صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے امریکہ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس عمل میں ان کی مسلسل شمولیت کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں لبنان کی خودمختاری، سیاسی آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جائے۔ فوری طور پر تمام جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور تمام فریقین کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدوں کی سختی سے پابندی کی جائے۔ قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، اور اسرائیل کی جانب سے بلیو لائن تک مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔تنازعات کے پیچیدہ اور باہم مربوط میدانوں میں ایک مستحکم اور پرامن لبنان خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ مزید کشیدگی کو روکا جا سکے اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق سفارتی حل کو آگے بڑھایا جا سکے۔