یوکرین تنازع کا حل صرف مکالمے اور سفارت کاری سے ممکن ہے، پاکستان

18

اسلام آباد، 2 جون (اے پی پی): پاکستان نے طویل المدتی تنازعات کے ممکنہ منفی نتائج، ان کے پھیلاؤ اور سرحدوں سے ماورا اثرات کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں پائیدار امن کے لیے عسکری ذرائع نہیں بلکہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات غلط اندازوں اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مزید کشیدگی اس بحران کو ایک بڑے تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے جس کے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستانی مندوب نے رومانیہ کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے اصولوں کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول ریاستوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد ہیں اور ان کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں مسلح ڈرونز کی مبینہ دراندازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس ظاہر کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یوکرین تنازع نے جدید جنگ میں مسلح ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کو نمایاں کیا ہے اور اس سے وابستہ انسانی ہمدردی کے چیلنجز کو بین الاقوامی انسانی قانون کے دائرے میں حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں سے وابستگی، تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کا ادراک اور موجودہ کثیرالجہتی معاہداتی نظام کی پاسداری ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کی جلد بحالی کو آگے بڑھنے کا سب سے قابل اعتماد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس عمل کو نئی توانائی اور سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ فعال کیا جائے تو یہ تنازع کے قابل قبول اور متفقہ حل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن عسکری ذرائع سے حاصل نہیں کیا جا سکتا اور اس مقصد کے لیے مسلسل اور بامعنی مکالمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے فوری اور مکمل جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام فریقین پر خلوص نیت کے ساتھ امن کے راستے کی جانب دوبارہ رجوع کرنے کی اپیل کی۔