مودی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیاں؛ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری 10 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی

4

اسلام آباد، 4 جون (اے پی پی): مودی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارتی اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد تیزی سے ختم ہونے لگا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت میں عالمی سرمایہ کاری گزشتہ دس برسوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

بین الاقوامی اقتصادی جریدے “بلومبرگ” کی رپورٹ اور بھارتی مالیاتی ڈیٹا بینک “نیشنل سیکیورٹیز ڈپازٹری لمیٹڈ”کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری محض 7.3 ٹریلین روپے رہ گئی ہے، جو کہ  2016ء کے بعد اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ عالمی جریدے نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مودی سرکار کے بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے متعلق بڑے بڑے دعوؤں کی حقیقت دنیا کے سامنے عیاں کر دی ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی اسٹاک مارکیٹ ابھرتی ہوئی عالمی معیشتوں کی منڈیوں میں اپنی روایتی اہمیت اور کشش کھو چکی ہے، جبکہ گزشتہ تین سالوں میں پہلی بار تائیوان اور جنوبی کوریا کی معیشتیں کارکردگی کے لحاظ سے بھارت سے آگے نکل گئی ہیں۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی بڑی بھارتی کمپنیوں میں عالمی فنڈز کا حجم گزشتہ دس سالوں کے دوران 20 فیصد سے کم ہو کر اب محض 15 فیصد پر آ گیا ہے، جو بھارتی کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

عالمی معاشی ماہرین کا اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مودی حکومت کی کمزور اور غیر مستحکم معاشی پالیسیوں کے علاوہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ تنازعات و جنگ سے پیدا ہونے والی عالمی مشکلات نے بھی بھارت کے معاشی مستقبل کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان منفی عوامل کی وجہ سے بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کار تیزی سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور وہاں عالمی سرمایہ کاری کی موجودگی مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔