مولانا فضل الرحمن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

4

اسلام آباد، 24 جون (اے پی پی): مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے اور حکومت کو اختلافات کے حل میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جانب سے باقاعدہ خط موصول ہوا ہے، جس میں ان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ذمہ داری وہ تنہا انجام نہیں دے سکتے، تاہم انہوں نے اس درخواست کا مثبت جواب دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے اور حکومت کو ایسے معاملات میں تحمل، بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا رویہ جذباتی ہونے کے بجائے مفاہمت پر مبنی ہو تو بہت سے مسائل خوش اسلوبی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ احتجاجی معاملات کے حل کے لیے طاقت کےاستعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، کیونکہ افہام و تفہیم ہی دیرپا حل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کی نمائندہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے انہیں ثالثی کی درخواست موصول ہوئی، جس پر انہوں نے مثبت جواب دیا اور حکومت کو بھی اس سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب تک حکومت کی جانب سے باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا، تاہم احتجاجی قیادت نے لانگ مارچ کا اعلان مؤخر کرکے مثبت رویے کا مظاہرہ کیا ہے، جسے سراہا جانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی اور مثبت انداز میں مذاکرات کرے تو موجودہ صورتحال کا قابل قبول حل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقررین کی تقاریر کو جواز بنا کر طاقت کا استعمال حکومتوں کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کی ہے اور عالمی سطح پر کشمیر کے معاملے پر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی سفارتی کامیابیوں کو مزید مضبوط بنانے اور قومی مفاد میں انہیں مؤثر انداز سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔