وفاقی بجٹ 2026-27، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا حکومتی اقدامات کا خیر مقدم

2

اسلام آباد، 12 جون (اے پی پی ):  صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر محمود نے وفاقی بجٹ  2026-27 پر رد عمل میں پریس کانفرنس سے خطاب میں   حکومت کو بجٹ 2026-27 پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو تین سال کی کاوشوں سے سٹیبلٹی آئی اور اس بجٹ میں دکھائی دے رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن کے شعبے میں ریلیف دیے گئے ہیں جس میں 236 سی اور 236 کے کو 50  فیصد  کم کیا گیا ہے یعنی جو 5.5 فیصد سیلر کے اوپر ٹیکس تھا اس کو 2.75 فیصد کیا گیا ہے اسی طرح جو بائر پہ 2.5 فیصد ٹیکس تھا اس کو بھی 50  فیصد کم کر کے 1.25 فیصد کیا گیا ہے۔ اس کی جو باقی سلیبز ہیں جس طرح 100 ملین 500 ملین اور 50 ملین اور 50 ملین سے نیچے کے جو سلیبز ہیں وہ اسی طرح انٹیکٹ رہیں گے وہ ہم جو فائنل  منی بل آئے گا اس میں ہم اس کو سٹڈی کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ  سپر ٹیکس جو 500 ملین تک ختم کیا گیا ہے یہ بھی قابل احسن اورستائش اقدام ہیں اس پہ بھی ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں اسی طرح ریٹیلرز کے لیے فکس ٹیکس کی جو سکیم متعارف کرائی گئی ہے یہ قابل عمل بھی ہے اور اس کی وجہ سے ٹیکس بیس براڈ ہوگا جو کہ تمام مونیٹری فنڈ سے لے کے ہر ایکانمسٹ کا یہ مطالبہ تھا اور ہم بھی یہ کہتے تھے کہ ٹیکس بیس کو براڈ کیا جائے جو اس وقت تقریبا 70 لاکھ کے قریب لوگ ٹیکس نیٹ پہ موجود ہیں ان میں سے چار ملین کے قریب زیرو ٹیکس ریٹرن فائل کرتے تھے تو ایفیکٹولی تین ملین لوگ ہیں جو ٹیکس پیئرز تھے تو اس دائرے کو بڑھانے کی ضرورت ہے جو کہ 1.8 پرسنٹ تک ہے۔ایکسپورٹرز کے لیے جو ٹیکس تھا اس میں کمی کی گئی ہے یہ بھی ایکسپورٹ لیڈ اکانومی کی طرف اہم اقدام ہے۔

 اسی طرح ضروری آئٹمز پر بھی سیلز ٹیکس ختم کیا گیا ہے اور جو ایف بی آر کا نیشنل فیسلس سینٹر اور دیگر اقدامات کیے گئے ہیں ڈیجیٹائزیشن کی طرف یہ بھی قابل ستائش ہے۔