وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک سے اسپین کے سفیر کی ملاقات، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال

3

 

اسلام آباد10 جون ( اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک سے پاکستان میں اسپین کے سفیرکارلوس آراگون نے بدھ کو یہاں ملاقات کی۔ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال، توانائی کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

گفتگو کے دوران سندھ طاس معاہدے اور حالیہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے وسیع تر اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ عالمی نظام بتدریج کثیرالجہتی  سے یکطرفہ طرزِ عمل  کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ طاس معاہدے جیسے ایک دیرینہ بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے تو اس سے بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے بارے میں اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پاکستان میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والی تباہ کاریوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسمیاتی پیٹرنز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جس سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مستقبل کے خطرات اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے پیشگی تیاری اور احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنانا ناگزیر ہے۔

اس موقع پر اسپین کے سفیر نے گلگت بلتستان کے اپنے حالیہ دورے کے تاثرات بھی شیئر کیے اور علاقے کے قدرتی حسن، ثقافتی تنوع اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی کو سراہا۔ملاقات میں توانائی کے تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے عالمی رجحانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات کے تناظر میں دونوں جانب سے شمسی اور ہوائی توانائی سمیت سبز توانائی کے ذرائع کی جانب تیزی سے منتقلی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حالیہ عالمی پیش رفت نے یورپ سمیت متعدد خطوں کی روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار اور اس سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے باعث متنوع اور پائیدار توانائی کے نظام کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے سفیر کو وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے زیرِ غور دو اہم اقدامات، ‘‘گرین یونیورسٹی’’ اور ‘‘گرین فیلڈز’’کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ گرین یونیورسٹی کا مقصد موسمیاتی تعلیم، تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہے، جبکہ گرین فیلڈز اقدام کا مقصد ماحول دوست کاروباری منصوبوں پر کام کرنے والے نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مواقع سے منسلک کرنا ہے تاکہ پائیدار کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

دونوں جانب سے ان اقدامات کے حوالے سے تعاون، تجربات کے تبادلے اور استعداد کار بڑھانے کے مختلف امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔