کامسٹیک اور ڈریپ کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی نمائش و سیمینار کا آغاز

1

اسلام آباد،09 جون (اے پی پی ):  پاکستان میں جڑی بوٹیوں، یونانی، ہومیوپیتھک اور روایتی ادویات کو قومی نظامِ صحت کا مؤثر حصہ بنانے کے لیے او آئی سی-کامسٹیک، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وزارتِ قومی صحت کے اشتراک سے دو روزہ بین الاقوامی نمائش و سیمینار کا آغاز کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ہو گیا۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے تقریب کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کامسٹیک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ماہرین، سائنسدانوں، پالیسی سازوں، صنعتکاروں اور ریگولیٹری اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے روایتی اور متبادل طب کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ حکومت روایتی اور جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات کے فروغ کیلئے سازگار قانونی اور ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس شعبے سے متعلق قانون سازی اور ریگولیٹری فریم ورک پر پیش رفت ہو چکی ہے اور جلد ہی پاکستان میں روایتی ادویات کے لیے مزید مؤثر نظام متعارف کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کی روک تھام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ پاکستان کے پاس ادویاتی پودوں اور قدرتی وسائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے جس سے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ درآمدی خام مال پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی-کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ یونانی اور دیگر روایتی نظام ہائے طب صدیوں کے علمی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں اور آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں افراد ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی طب کا مستقبل سائنسی تحقیق، کلینیکل آزمائشوں اور شواہد پر مبنی طریقہ کار سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کامسٹیک او آئی سی رکن ممالک میں روایتی ادویات کے شعبے میں تحقیق، استعداد کار میں اضافے، کلینیکل ویلیڈیشن اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ نے کہا کہ روایتی اور تکمیلی طب بالخصوص دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہربل، ہومیوپیتھک اور روایتی ادویات کے ریگولیٹری نظام میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ان ادویات کو قومی نظام صحت میں مؤثر انداز میں شامل کرنے کیلئے مزید سائنسی تحقیق اور کلینیکل شواہد کی ضرورت ہے۔

نمائش میں جڑی بوٹیوں، یونانی، ہومیوپیتھک اور روایتی ادویات سے وابستہ 53 ادارے اور کمپنیاں شریک ہیں جبکہ 15 نمایاں کمپنیوں نے اپنی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجی کی نمائش کیلئے اسٹالز قائم کیے ہیں جن میں قرشی انڈسٹریز، مرحبا لیبارٹریز، اشرف لیبارٹریز، ہربیون، نیوٹری فیکٹر، ہربی اوٹکس، ہمدرد، ہیمانی اور منٹ فارماسیوٹیکلز شامل ہیں۔

افتتاحی تقریب میں اردن، فلسطین، سوڈان، یمن، موریطانیہ، تھائی لینڈ، قازقستان، انڈونیشیا اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے سفرا و سفارتی نمائندوں سمیت روسی سفارت خانے کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔دو روزہ سیمینار کے دوران ماہرین جڑی بوٹیوں کی ادویات، کلینیکل ٹرائلز، ریگولیٹری فریم ورک، معیار کے بین الاقوامی تقاضوں، برآمدی امکانات، ادویاتی پودوں پر تحقیق اور روایتی طب کو قومی نظام صحت میں شامل کرنے کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کریں گے۔

شرکاء سے توقع ہے کہ سیمینار کے اختتام پر ایسی سفارشات اور لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا جو پاکستان میں روایتی ادویات کی تحقیق، ریگولیشن، صنعتی ترقی اور قومی نظام صحت میں مؤثر انضمام کیلئے رہنمائی فراہم کرے گا۔