اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کے ساتھ اے آئی نظام تیار اور نافذ کیے جائیں؛شزا فاطمہ خواجہ کا اجلا س سے خطاب

3

جنیوا،7جولائی  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری کے ساتھ تیار اور نافذ کیے جانے چاہئیں جبکہ شہری اور سکیورٹی دونوں شعبوں میں موثر انسانی نگرانی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں گلوبل ڈائیلاگ آن آرٹیفیشل انٹیلی جنس گورننس کے تحت محفوظ، محفوظ تر اور قابل اعتماد مصنوعی ذہانت مختلف طریقہ ہائے کار میں ہم آہنگی اور مطابقت کے موضوع پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا محفوظ استعمال پوری دنیا کا مشترکہ مفاد ہے، تاہم اس کے حفاظتی اصول وضع کرنے کا عمل شفاف، جامع اور تمام ممالک کی مساوی نمائندگی پر مبنی ہونا چاہیے۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ اس وقت قابل اعتماد اے آئی کے حفاظتی معیارات اور پیمانے چند ممالک اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے قومی فریم ورکس کے ذریعے ترتیب دیے جا رہے ہیں جس کے باعث ترقی پذیر ممالک اس عمل سے بڑی حد تک باہر رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تحفظ صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق زبان، ثقافت اور مقامی حقائق سے بھی ہے۔ اگر ترقی پذیر ممالک کی شمولیت کے بغیر معیارات بنائے گئے تو وہ اجتماعی اتفاقِ رائے کے بجائے دوسروں پر مسلط کیے گئے اصول بن جائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کے تحت جامع اور کثیرالجہتی مشاورت کے ذریعے اے آئی کے عالمی حفاظتی اصول مرتب کرنے کی حمایت کرتا ہے تاکہ تمام ممالک مساوی شراکت دار کے طور پر اپنی رائے دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ کے وژن کے مطابق اے آئی گورننس کے ایسے نظام کی حمایت کرتا ہے جو مختلف ممالک کے ضابطہ جاتی فریم ورکس کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے۔ ان کے مطابق اس سے سرحد پار تجارت، تحقیق اور ڈیٹا کے بہائو کو فروغ ملے گا جبکہ ہر ملک اپنا ریگولیٹری نظام برقرار رکھ سکے گا تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ہم آہنگی چند ممالک کے قوانین دوسروں پر نافذ کرنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے بلکہ مختلف نظاموں کے درمیان رابطے کا پل ثابت ہونی چاہیے۔

شزا فاطمہ نے زور دیا کہ عالمی سطح پر اے آئی کے معیارات کھلے، شفاف اور اشتراکی معیار سازی کے اداروں کے ذریعے مرتب کیے جائیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے پورے لائف سائیکل میں حفاظت، قابل اعتماد کارکردگی، انسانی حقوق کے احترام اور لسانی و ثقافتی تنوع کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر اعتماد اسی وقت ممکن ہے جب ممالک کے پاس اے آئی نظاموں کی آزادانہ جانچ، تجزیہ اور تصدیق کی صلاحیت موجود ہو۔اے آئی نظاموں کی جانچ اور تصدیق کی صلاحیت زیادہ تر انہی ممالک میں موجود ہے جہاں یہ ٹیکنالوجی تیار کی جاتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی تصدیقی صلاحیت کے بغیر صرف بیرونی یقین دہانیوں پر انحصار کریں۔انہوں نے ترقی پذیر ممالک میں اے آئی کی جانچ اور گورننس کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ ٹولز، تکنیکی تعاون اور علاقائی شراکت داری بڑھانے پر زور دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ محفوظ اور قابلِ اعتماد مصنوعی ذہانت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تحفظ صرف چند ممالک تک محدود رہے جبکہ باقی دنیا کے لیے یہ نظام غیر شفاف ہو۔انہوں نے عالمی شراکت داروں اور اجلاس کے شریک سربراہان کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے لیے ایک جامع، شفاف اور پائیدار عالمی فریم ورک کی تشکیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔