او آئی سی خواتین کانفرنس کا کامیاب اختتام، پاکستان کو دو سالہ چیئرمین شپ مل گئی: اعظم نذیر تارڑ

4

اسلام آباد، 13 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی 9ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے کامیاب انعقاد کے ساتھ پاکستان کو آئندہ دو سال کے لیے او آئی سی ویمن پلیٹ فارم کی چیئرمین شپ بھی منتقل ہو گئی ہے۔

اسلام آباد میں کانفرنس کے اختتام پر نیوز بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ رکن ممالک، وزراء، سربراہان وفود اور او آئی سی کے نمائندوں کی بھرپور شرکت سے کانفرنس کامیاب رہی۔ دو روزہ اجلاس کے دوران ہونے والی بحث اور سفارشات کو رکن ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسلم دنیا میں خواتین کو معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر بااختیار بنایا جائے گا تاکہ وہ ترقی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کر سکیں اور متوازن معاشروں کے قیام میں مردوں کے شانہ بشانہ حصہ لیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ رکن ممالک خواتین کو جدید مواقع اور وسائل فراہم کریں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے خاندانوں، معاشروں اور ممالک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر او آئی سی، تمام رکن ممالک، وزارت خارجہ، وزارت انسانی حقوق، وزارت قانون، وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سرپرستی اور رہنمائی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو او آئی سی خواتین پلیٹ فارم کی قیادت ملنا ایک اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے اور پاکستان رکن ممالک کے تعاون سے خواتین کی ترقی، بہبود اور بااختیار بنانے کے لیے مؤثر پالیسی فریم ورک کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے 57 رکن ممالک کے وفود کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان آئندہ دو سال کے دوران اسلامی دنیا میں خواتین کے حقوق اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔