اسلام آباد،14 جولائی(اے پی پی): انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے اسلحہ کنٹرول و تخفیف اسلحہ مرکز نے “بھارت کی سمندری بنیادوں پر جوہری صلاحیتیں: پاکستان کے لیے مضمرات” کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی گول میز مذاکرے کا انعقاد کیا۔
مذاکرے میں ممتاز سفارت کاروں، دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے شرکت کی اور بھارت کی سمندری جوہری صلاحیتوں کے جنوبی ایشیا کی صورتحال پر اثرات کا جائزہ لیا۔
آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے کہا کہ بھارت کی سمندری جوہری صلاحیتوں کی فعالیت خطے کی سلامتی کے ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی ہے، جس کے تناظر میں دفاعی حکمت عملیوں اور سفارتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری اور جوہری صلاحیتیں جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔ مقررین نے پاکستان کے لیے مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے، بحران سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانے اور بحری اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء نے خطے میں توازن اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مختلف پالیسی آپشنز پر تبادلہ خیال کیا۔۔











