اسلام آباد،9 جولائی(اے پی پی): بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی)، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اشتراک سے بینظیر نشوونما پروگرام میں مزید تین سال کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں مزید 33 لاکھ حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو غذائی قلت سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
بی آئی ایس پی کے مطابق بینظیر نشوونما پروگرام ملک بھر میں قائم 578 سہولت مراکز اور 224 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز کے ذریعے حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور کم عمر بچوں کو غذائیت اور صحت سے متعلق خدمات فراہم کر رہا ہے۔ 2020 میں آغاز کے بعد اب تک 47 لاکھ افراد اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں جبکہ نئی توسیع کے بعد مستفید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام سماجی تحفظ، معیاری غذائیت اور صحت کی سہولیات کو یکجا کرکے ماؤں اور بچوں کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تیسرے مرحلے کے معاہدے پر دستخط پاکستان کے ہر بچے کو صحت مند زندگی کا بہترین آغاز اور ہر ماں کو بہتر مستقبل کی تعمیر کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے قومی عزم کا اظہار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے پروگرام کی رسائی اور اثرات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ کوئی مستحق خاتون یا بچہ اس سہولت سے محروم نہ رہے۔
بی آئی ایس پی کے مطابق یہ پروگرام سائنسی بنیادوں پر قائم ایک ایسا ماڈل ہے جس نے غذائیت کے شعبے میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں۔ پروگرام سے وابستہ بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک نشوونما میں رکاوٹ) کا خطرہ 22 فیصد کم ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر ہر دس میں سے چار بچے دائمی غذائی قلت کا شکار ہیں، جن کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ شدید غذائی قلت کی شرح 17.7 فیصد ہے، جس سے تقریباً 50 لاکھ بچے متاثر ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ملک کو سالانہ تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بی آئی ایس پی کا کہنا ہے کہ پروگرام کے نتائج سے ماؤں کی غذائی حالت میں بہتری، بچوں کی بقا کی شرح میں اضافہ، حمل کے دوران طبی معائنوں میں بہتری، صحت مند حمل اور بچوں کی پیدائش کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں ڈبلیو ایف پی کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام نے بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام کے حوالے سے حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں اور تین سالہ توسیع کے ذریعے مزید ماؤں اور بچوں تک ضروری غذائی خدمات پہنچانے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔
یونیسیف کی نائب نمائندہ شرمیلہ رسول نے کہا کہ یہ شراکت داری کمزور ماؤں، نوعمر لڑکیوں اور بچوں کی غذائی حالت بہتر بنانے، غذائیت سے متعلق خدمات تک مساوی رسائی بڑھانے، نظام کو مضبوط بنانے اور کمیونٹیز میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ ڈاکٹر لوو داپینگ نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون اور سائنسی بنیادوں پر قائم مربوط حکمت عملی صحت، غذائیت، سماجی تحفظ، پانی و صفائی، خوراک کے نظام اور تعلیم کے شعبوں میں بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت حکومتِ پاکستان اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہر ماں اور ہر بچے کے تحفظ کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔











