اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں قائم مقام چیئرمین کمیٹی سینیٹر سرمد علی کی زیرِ صدارت بروز جمعرات منعقد ہوا-
اجلاس میں متعدد اہم قومی امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں فلم “بلھیا” میں حضرت بابا بلھے شاہؒ کے نام اور تعلیمات کی مبینہ غلط انداز میں پیشکش، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز، پیکا سے متعلق مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی، صحافیوں کے لیے پلاٹس کی الاٹمنٹ، علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے اور ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل شامل تھے۔
اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کمیٹی کو سوشل میڈیا سے متعلق اعداد و شمار اور میٹا (Meta) کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ این سی سی آئی اے کے حکام نے وضاحت کی کہ اس سے قبل کمیٹی کے ساتھ شیئر کیے گئے اعداد و شمار میٹا کے عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہمیشہ تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
کمیٹی نے صوبائی اداروں سے پیکا کے مقدمات این سی سی آئی اے کو منتقل کیے جانے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے آگاہ کیا کہ صرف سندھ سے اب تک 9 مقدمات این سی سی آئی اے کو منتقل کیے گئے ہیں جبکہ باقی مقدمات کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط ارسال کیے جائیں تاکہ زیرِ التواء مقدمات کی منتقلی کو جلد از جلد مکمل کیا جائے، ساتھ ہی سینیٹ کی ذیلی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ بھی عملدرآمد کے لیے ارسال کی جائے۔
کمیٹی نے اخباری کالم نگار کو بیوروکریسی سے متعلق مبینہ متنازع ریمارکس پر جاری کیے گئے نوٹس کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ مذکورہ نوٹس پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف جاننے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ اس معاملے میں پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا جبکہ متعلقہ مضمون اخبار کے ای-پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم وہ اب بھی کالم نگار کے فیس بک صفحے پر موجود ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے پارلیمنٹ میں حکومت کی جانب سے دی گئی اس یقین دہانی کا اعادہ کیا کہ پیکا قانون کو اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے مواد کی نگرانی بالترتیب پریس کونسل آف پاکستان اور پیمرا کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق سامنے لانے کے لیے کالم نگار سے نوٹس کا جواب طلب کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ہر فرد کے وقار اور حرمت کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔ باہمی مشاورت کے بعد قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ شکایت اور شکایت کنندہ دونوں کا معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھیجا جائے، کیونکہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس پر فیصلہ کرنے کے لیے یہی مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے فلم “بلھیا” میں حضرت بابا بلھے شاہؒ کے امن، محبت اور رواداری کے پیغام کی مبینہ غلط تشریح کا بھی سخت نوٹس لیا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ فلم میں مرکزی کردار کے ذریعے حضرت بابا بلھے شاہؒ کی پرامن تعلیمات کو تشدد اور اسلحے کے ساتھ منسلک کر کے ان کے حقیقی پیغام کو مسخ کیا گیا ہے۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے کس بنیاد پر اس فلم کی منظوری دی۔ چیئرمین سنسر بورڈ نے کمیٹی کو بتایا کہ فلم کو پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز نے بھی کلیئر کیا ہے، تاہم کمیٹی نے اس جواز کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ ان تقرریوں کے لیے شفاف، میرٹ پر مبنی اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم “بلھیا” کے پروڈیوسرز کو فلم کا نام تبدیل کرنے اور وہ قابلِ اعتراض ڈائیلاگ حذف کرنے کی ہدایت دی جائے جس میں مرکزی کردار نے خود کو حضرت بابا بلھے شاہؒ سے تشبیہ دی ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر ان سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو فلم کی نمائش روک دی جائے اور ضرورت پڑنے پر اسے یوٹیوب سے بھی ہٹانے کے اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹس کی الاٹمنٹ کے معاملے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم صحافیوں کے کوٹے سے متعلق معاملات تاحال حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مانیٹرنگ ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارتِ اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا ایک ہفتے کے اندر نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ اس معاملے کا جائزہ لیا جا سکے اور ایک ماہ کے اندر موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ اسکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے مختص کوٹے میں اضافہ کرنے کی بھی سفارش کی، جبکہ صحافیوں کے لیے خصوصی ہاؤسنگ لون اسکیم متعارف کرانے یا وفاقی حکومت کی موجودہ ہاؤسنگ فنانس سہولتوں میں انہیں ترجیح دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) نے کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے لیے مختص اشتہاری کوٹے پر بھی بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مختص ہے۔ تاہم کمیٹی اراکین نے بالخصوص سندھ اور بلوچستان سے اس پالیسی پر عملدرآمد نہ ہونے سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا ذکر کیا۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ 25 فیصد اشتہاری کوٹے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور علاقائی زبانوں کے اخبارات کو بھی اس میں شامل رکھا جائے تاکہ عوام تک معلومات کی مؤثر فراہمی میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کیا جا سکے۔
اجلاس میں ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنشنرز کے 353 کمیوٹیشن کیسز تاحال زیرِ التواء ہیں جبکہ ریڈیو پاکستان اب بھی وفاقی حکومت کی گرانٹ اِن ایڈ کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ حکام نے مزید آگاہ کیا کہ وزیرِ اعظم پاکستان پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) سے متعلق زیرِ التواء مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کی شکایات بھی وزیرِ اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کو یقینی بنایا جائے۔











