اسلام آباد، 3 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی جیسے متعدی امراض کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم نے ملک بھر میں غیر معیاری سرنجز کی تیاری اور استعمال پر مکمل پابندی لگانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خلاف ضابطہ سرنجز کے استعمال میں ملوث یا اس کی روک تھام میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد اور ہسپتالوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے متعدی امراض پر قابو پانے کے لیے ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دینے اور کمیٹی کو سفارشات مرتب کرتے وقت صوبوں سے مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
انہوں نے وزارت قانون کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر جامع حکمت عملی کی تشکیل اور مؤثر نفاذ ہی اس مسئلے کا حل ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سرنجز کے ذریعے متعدی امراض کے پھیلاؤ کے مستقل سدباب کے لیے ڈریپ طبی آلات کی صنعت سے مشاورت کر کے پالیسی اقدامات تجویز کرے۔ انہوں نے کہا کہ متعدی امراض کے سدباب کی جاری کوششوں میں بین الاقوامی شراکت داروں کی معاونت اہم ہے جبکہ علاج سے متعلق آلات کی تیاری اور شعبہ صحت کے عملے کی عالمی معیار کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔
اجلاس کو وزیراعظم کی ہدایت پر قائم خصوصی ٹاسک فورس اور وزارت قومی صحت کی جانب سے متعدی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرت، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان، گلوبل فنڈ کی نمائندہ ایزاسکن گاویریا، شعبہ صحت کے ماہرین، وزارت قومی صحت، ڈریپ کے نمائندگان اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔











