موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج، مؤثر کلائمیٹ گورننس ناگزیر ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

3

لاہور، 9 جولائی(اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر ماحولیاتی حکمرانی، پائیدار ترقی، انصاف پر مبنی شہری منصوبہ بندی اور تمام اداروں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سول سروسز اکیڈمی والٹن کیمپس لاہور میں 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے زیر تربیت افسران سے “انوائرمنٹ اینڈ کلائمیٹ گورننس” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ، فیکلٹی ممبران اور زیر تربیت افسران کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مہمان خصوصی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ نہایت معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن لوگوں کا موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں سب سے کم کردار ہے وہی اس کے سب سے زیادہ متاثرین بھی ہیں۔ اس لیے عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ موسمیاتی انصاف، مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کی منصفانہ منتقلی کو یقینی بنائے تاکہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی بھی خاندان کو غربت سے نکلنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں لیکن ایک شدید سیلاب، ہیٹ ویو یا دوسری موسمیاتی آفت چند دنوں میں ان کی پوری زندگی کی کمائی اور محنت کو تباہ کر دیتی ہے اور وہ دوبارہ غربت کی دلدل میں جا گرتے ہیں۔ اسی لیے موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے انسانی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ چار بڑے سیلابوں کے دوران تقریباً چھ ہزار افراد جاں بحق، 19 ہزار زخمی یا معذور جبکہ تقریباً چار کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔ ان آفات سے ہونے والا انسانی اور معاشی نقصان کئی جنگوں اور تنازعات سے کہیں زیادہ ہے، لہٰذا موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مضبوط حکمت عملی اور مؤثر ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ سستی اور محفوظ رہائش کو فلاحی منصوبہ نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق سمجھا جانا چاہیے۔ اگر سیلاب کے باعث بچے کئی ماہ تک تعلیم سے محروم رہ جائیں، سکول تباہ ہو جائیں، خاندان بے گھر ہو جائیں اور روزگار ختم ہو جائے تو یہ صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے گہرے سماجی اثرات ہیں۔

انہوں نے اپنے طالب علمی کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت صبح کے وقت فضا صاف ہوتی تھی، گھاس پر شبنم کے قطرے چمکتے تھے، تتلیاں باغات میں اڑتی تھیں اور رات کے وقت جگنو عام دکھائی دیتے تھے لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں ماحولیاتی آلودگی، سموگ، آلودہ پانی اور فضائی آلودگی نے قدرتی ماحول کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج صاف ہوا اور صاف پانی جیسی بنیادی نعمتیں بھی لاکھوں شہریوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔خوشحال طبقہ تو منرل واٹر خرید سکتا ہے لیکن غریب آدمی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے جس کے باعث مختلف بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار اور ماحول دوست شہری ترقی کو صرف خوبصورتی، بلند و بالا عمارتوں، نعروں یا سرمایہ کاری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے شہر تعمیر کیے جائیں جہاں ہر شہری بالخصوص کم آمدنی والا طبقہ، محفوظ، صحت مند اور باوقار زندگی گزار سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ شہری منصوبہ بندی میں غریب اور محروم طبقات کی ضروریات اور آواز کو مرکزی حیثیت دی جائے کیونکہ حقیقی ترقی وہی ہے جس کے ثمرات معاشرے کے ہر فرد تک پہنچیں ۔انہوں نے زیر تربیت افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے سول سرونٹس کی حیثیت سے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مدنظر رکھیں اور ہر شعبے میں پائیدار ترقی کے اصولوں کو فروغ دیں۔

سوال و جواب کی نشست میں معاشی ترقی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے والی قومیں ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جاتی ہیں جبکہ پرانے طریقوں پر انحصار کرنے والے ممالک پیچھے رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں وہ نوجوان کامیاب ہیں جو نئی ٹیکنالوجی، اختراع اور گیجٹس کی تیاری کے ذریعے عوامی ضروریات کو سہولت میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اسی سوچ کو پاکستان میں فروغ دینا ہوگا۔انہوں نے “اڑان پاکستان” پروگرام کو حکومت کا ایک مؤثر، دور اندیش اور حوصلہ افزا قومی وژن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے پاکستان اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری، برآمدات، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر سکتا ہے اور عالمی برادری میں باوقار مقام حاصل کرے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار معاشی استحکام کے لیے پاکستان کو اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس وقت ملک میں درآمدات برآمدات سے زیادہ ہیں جس کے باعث قیمتی زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اگر پیداواری صلاحیت اور برآمدی شعبے کو مضبوط نہ بنایا گیا تو ملک کو ہر چند سال بعد بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا بنیادی کردار عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنا، بین الاقوامی موسمیاتی سفارت کاری کو فروغ دینا، موسمیاتی مالی معاونت کے حصول کے لیے کوششیں کرنا اور عالمی ماحولیاتی معاہدوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے۔اسلام آباد میں پولن الرجی سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ عدالتی احکامات کے تحت بعض ایسے درخت ہٹائے گئے تھے جو شدید پولن الرجی کا باعث بن رہے تھے تاہم حکومت نے ان کے متبادل کے طور پر تین گنا زیادہ نئے درخت لگا کر ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

سولر پالیسی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں کیپیسٹی چارجز کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل ہوا جبکہ سولر سسٹم نصب کرنے والے صارفین اس بوجھ سے بڑی حد تک محفوظ رہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی توانائی پالیسیوں میں توازن اور انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سوال پر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا بھارت جبکہ تین مغربی دریا پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین علاقائی نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ خطے میں آبی وسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور پانی کے بہاؤ میں غیر فطری مداخلت سے نہ صرف قحط بلکہ شدید سیلاب جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جارحانہ پالیسیوں کے نتائج بھارت کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوئے اس لیے خطے کے امن اور استحکام کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے زیر تربیت افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں ماحول دوست پالیسیوں کے نفاذ، قدرتی وسائل کے تحفظ، شفاف طرز حکمرانی، مؤثر ماحولیاتی قوانین کے اطلاق اور عوام میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کو ترجیح دیں۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر کلائمیٹ گورننس ہی پائیدار ترقی کے اہداف کےحصول، قدرتی وسائل کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، سرسبز اور خوشحال پاکستان کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر سول سروسز اکیڈمی نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی۔ بعد ازاں وفاقی وزیر نے زیر تربیت افسران اور فیکلٹی ممبران کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا۔