اسلام آباد،29جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی حکومت کے زیر انتظام نئے قائم کردہ قومی سطح کے مرکزی ڈیٹا سینٹر سکائی 47 کی سہولیات تمام وفاقی اداروں کو فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مربوط ڈیجیٹل پالیسی پر موثر عملدرآمد سے عالمی شراکت داری اور عالمی فورمز پر ملک کی موثر نمائندگی یقینی بنائی جا سکے گی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار قومی سطح کی مربوط ڈیجیٹل پالیسی فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ،پبلک سیکٹر میں قومی سطح پر ایک مربوط ڈیٹا سینٹر ہی تمام اداروں کے ڈیٹا کو مرکوز جگہ فراہم کرے گا اور مختلف اداروں کے علیحدہ علیحدہ ڈیٹا سینٹرز کے قیام کو روکنے سے قومی وسائل کی بچت ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی حکومتی خدمات، معاشرتی نظام بالخصوص عوام کو شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے فعال مستعد اور انقلابی سمت کا تعین کر رہی ہے،عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق قومی ڈیجیٹل وژن کا اطلاق ایک مربوط معاشرے کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتاہے،قومی و مربوط ڈیجیٹل وژن کے تحت ڈیجیٹل معیشت، ڈیجیٹل شہری سہولیات اور ڈیجیٹل حکومتی خدمات، تین بنیادی ستون پر جاری کام لائق تحسین ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قومی مربوط ڈیجیٹل پالیسی پر موثر عمل درآمد سے عالمی شراکت داری اور عالمی فورمز پر ملک کی موثر نمائندگی یقینی بنائی جا سکے گی،تمام متعلقہ اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومت کی مشاورت سے قومی ڈیجیٹل وژن پر مکمل عمل درآمد سے اداروں کی فیصلہ سازی، کارکردگی اور شفافیت عالمی معیار سے ہم آہنگ ہو جائے گی،قومی ڈیجیٹل وژن کا اطلاق پہلے ترجیحاتی شعبے بشمول صحت، زراعت، یوٹیلیٹیز، ہائوسنگ اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں کے لئے کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات جلد از جلد پہنچائی جا سکیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قومی ڈیجیٹل وژن کے مکمل اطلاق کے بعد شہریوں کو ایک ہی ڈیجیٹل آئی ڈی کے تحت تمام تر عوامی سہولیات بشمول دستاویزات کی حکومتی تصدیق، بینک کی سہولیات، صحت، ٹرانسفرز اور دیگر تمام سہولیات ایک ہی جگہ میسر ہو سکیں گی، نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا اجلاس جلد بلایا جائے تاکہ صوبوں سمیت تمام شراکت داروں کو اس پالیسی پر اعتماد میں لیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت قائم کردہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کے سربراہ وزیر اعظم ہیں اور تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ اس کے ممبران ہیں،وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق قومی ڈیجیٹل وژن کا اطلاق ،زراعت، خوراک، صحت، انرجی، ہائوسنگ اور (ایس ایم ایز) چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں کے شعبوں میں کیا جا رہا ہے،ان چار شعبوں کے علاوہ دیگر 14 ترجیحاتی سیکٹرز پر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق کام کیا جا رہا ہے جو نہ صرف شعبہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ ملکی معیشت اور اور صنعت اور تجارت میں بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے،ہائوسنگ کے شعبے میں اس کے اطلاق کے بعد نجی و سرکاری تمام املاک کے لیے ایک مرکزی نشاندہی نمبر میسر آ سکے گا۔ ڈیجیٹل نظام کے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے شعبے میں اطلاق سے کاروبار کی منفرد قانونی شناخت کا ایک مربوط نظام مرتب ہوگا جو ملک کی مجموعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا،قومی ڈیجیٹل وژن کے مکمل اطلاق کے لیے تمام قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی اقدامات تیزی سے مکمل کیے جارہے ہیں،اس تناظر میں عالمی ماہرین اور عالمی اداروں کی رائے اور دنیا میں رائج بہترین طریقوں سے بھی استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔











