اسلام آباد، 02 جولائی ( اے پی پی) : وزیراعظم محمد شہباز شریف سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر افسران کے وفد نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے گزشتہ مالی سال کے دوران 12.957 کھرب روپے کا تاریخی ریونیو ہدف عبور کرنے پر پوری معاشی ٹیم اور ایف بی آر کے عملے کو مبارکباد پیش کی۔
وزیراعظم نے اس کامیابی کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فیلڈ فارمیشنز اور افسران اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاکہ رواں مالی سال میں 15 کھرب روپے سے زائد کے محصولات کا نیا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 25-2024 میں 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو سہولت اور ملکی برآمدات کو فروغ ملا ہے۔
وزیراعظم نے اسمگلنگ کی روک تھام اور کسٹم افسران کو سیکیورٹی کی فراہمی پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو دلی خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے دور دراز علاقوں میں فرائض انجام دینے والے افسران کی شجاعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں گزشتہ ڈھائی سال سے جاری اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن اور اچھے افسران کی تعیناتی سے ہی یہ ریکارڈ ٹیکس ممکن ہوا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ادارہ کارپوریٹ ماڈل پر منتقل ہو رہا ہے جس کا نیا آپریٹنگ ماڈل مکمل ڈیجیٹل اور کم سے کم انسانی مداخلت پر مبنی ہوگا، اور اس نظام میں کرپٹ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ انہوں نے پاکستان کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کی ترقیوں اور سروس اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔
ملاقات کے دوران وفد نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جون 2026 کے دوران کراچی لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے 528 ارب روپے اور لاہور لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے 261 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا، جبکہ ایئرپورٹس پر کسٹم ڈیوٹی کے حجم میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











