پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا حالیہ علاقائی تنازع کے دوران حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کا خیر مقدم

3

اسلام آباد،02 جولائی (اے پی پی ): پاکستان میں  ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے حالیہ علاقائی تنازع کے دوران حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے اظہارِ یکجہتی کو سراہتے ہوئے خطے کے اہم ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا تاکہ پائیدار امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (IRS) کے زیرِ اہتمام منعقدہ پالیسی مکالمے “علاقائی امن کے قیام میں پاکستان کا کردار: ایران کی تزویراتی حکمتِ عملی، علاقائی صف بندیاں اور استحکام کے راستے” سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس مکالمے میں ایران کی تزویراتی پالیسی، خطے میں بدلتی ہوئی صف بندیوں، حالیہ ایران۔اسرائیل تنازع کے اثرات، اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ایران میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریبات کے تناظر میں ایرانی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی تزویراتی صورتحال پر ایران کے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ متحد قیادت، قومی یکجہتی، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور مقامی دفاعی صنعتی صلاحیت ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے پاکستان، ایران، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے درمیان قریبی تعاون کی تجویز پیش کی تاکہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ ایران کے مکالمے اور سفارت کاری سے وابستہ عزم کا بھی اعادہ کیا۔

انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر، سفیر جوہر سلیم نے کہا کہ ایران کی تزویراتی حکمتِ عملی مغربی ایشیا کے سیکیورٹی منظرنامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی سیکیورٹی ترجیحات کو سمجھنا علاقائی استحکام، توانائی کے تحفظ اور سفارتی مواقع کے درست جائزے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ موضوع پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا تعلق سرحدی سلامتی، علاقائی روابط، توانائی کے تعاون، بحری مفادات اور مغربی ایشیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سے ہے۔

پالیسی مکالمے کا اختتام مغربی ایشیا میں مشترکہ سیکیورٹی نظام کے امکانات پر شرکاء کے تفصیلی تبادلۂ خیال کے ساتھ ہوا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشیدگی میں کمی، پائیدار امن، علاقائی استحکام اور روابط کے فروغ کے لیے مسلسل سفارت کاری، علاقائی تعاون اور جامع مکالمہ ناگزیر ہے، جبکہ علاقائی روابط کے فروغ میں پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔