وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس، گلگت بلتستان کے لئے 100 میگا واٹ شمسی توانائی منصوبے کا جائزہ لیا گیا

2

اسلام آباد،8 جولائی ( اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کے لئے 100 میگا واٹ شمسی توانائی منصوبے پر جائزہ اجلاس منعقد  ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماحول دوست صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے فروغ کے لیے شمسی توانائی کا فروغ قومی توانائی کا اہم جزو ہے۔

وزیر اعظم  نے کہا کہ 100 میگاواٹ سولر منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے حوالے سے اپنی ذمے داری پوری کرے۔

ان کا کہنا  تھا کہ  سولر منصوبے کیلئے خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے۔

 وزیر اعظم نے ہدایت   کی کہ تمام ادائیگیاں تیسرے فریق کی توثیق(تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن) کے بعد کی جائیں۔

اجلاس کو گلگت بلتستان شمسی توانائی منصوبے پر پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔

بریفننگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج سمیت 18 میگاواٹ سولر سسٹم دسمبر 2026 تک نصب کر دیا جائے گا۔82 میگاواٹ یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے ایکنک (ECNEC) کو بھجوا دیا گیا۔ 82 میگاواٹ سولر منصوبے سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔

بریفننگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں سروس کا معیار بہتر ہو گا اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔