اسلام آباد، 16 جولائی (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات اور سادگی و کفایت شعاری کے اقدامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ خطے کی صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے، اس لیے ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ملکی معیشت فی الوقت مستحکم ہے تاہم ضرورت پڑنے پر بروقت اقدامات کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کی بچت کی قومی مہم میں عوام کے بھرپور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سادگی و کفایت شعاری مہم میں عوام نے بھرپور کردار ادا کیا جس پر وہ تہہ دل سے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح گزشتہ مہم میں عوام نے حکومت کا ساتھ دیا، اسی طرز پر کفایت شعاری کو قومی سطح پر اپنانا ہوگا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے ان کی فراہمی کو بھی یقینی بنا لیا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بروقت اور مؤثر حکومتی حکمت عملی کے ذریعے ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا بہترین انداز میں انتظام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عام آدمی، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کیا جبکہ حکومتی سبسڈی کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا گیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے منفی اثرات سے مستقبل میں ملکی معیشت متاثر ہونے کا اندیشہ موجود ہے، اس لیے پیشگی منصوبہ بندی اور تیاری ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، اویس خان لغاری، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔









