اسلام آباد،20 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا۔وزیراعظم نے ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کو اعلیٰ معیار اورمقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے سمیت مین ریلوے لائن ون کے روہڑی-ملتان سیکشن کی اپ گریڈیشن کے حوالےسے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔
دورانِ اجلاس خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز مسافروں اور مال برداری کے لیے سب سے کم لاگت اور مؤثر ذریعۂ نقل و حمل ہے جبکہ جدید اور مؤثر ریلوے نظام ملکی معیشت،تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری کا پاکستان کے علاقائی تجارت اور لاجسٹکس ہب کے طور پر کردار میں کلیدی کردار ہوگا ۔
اجلاس کو ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 اپ گریڈیشن، تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی اور دیگر منصوبوں کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی ۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم ایل-1 کی کراچی۔روہڑی سیکشن کے لیے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل کر لی گئی ہے ،ایم ایل 3 روہڑی-نوکنڈی کی اپ گریڈیشن پی ایس ڈی پی اور برج فنانسنگ تحت کی جائے گی ۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تھرکول ریل کنینٹیویٹی منصوبے کا 112 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک تھرکول تا چھور ریلوے اسٹیشن پر 60 فیصد کام ہو چکا اور یہ منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا اور وزیراعظم کی ہدایت پر ریلوے کی اصلاحات کے لئے بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں ۔
اس کے علاوہ بتایا گیا کہ ریلوے کے ماتحت اسکول اور ہسپتالوں کی سروسز کو آوٹ سورس کیا جا چکا ہے،جبکہ چھ بڑے ریلوے اسٹیشنوں کی کمرشلائزیشن پر کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی منصوبہ بندی احسن اقبال،وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ،وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی،وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ،مشیر وزیر اعظم برائے نجکاری محمد علی،وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔











