پشاور، 23 جولائی(اے پی پی): چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے پشاور کے مولوی امیر شاہ میموریل ہسپتال میں قائم بینظیر نشوونما سہولتی مرکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور کم عمر بچوں کو فراہم کی جانے والی صحت و غذائیت کی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
دورے کے دوران سینیٹر روبینہ خالد کو مستحق خواتین کی رجسٹریشن، غذائیت سے متعلق سہولیات، سماجی آگاہی، غذائی سپلیمنٹس کی فراہمی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مرکز میں موجود مستحق خواتین سے ملاقات کی اور نیونیٹل اسٹیبلائزیشن سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے لیے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کا مقصد حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور دو سال تک کے بچوں کی بہتر صحت اور غذائیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کے اعتماد کا مضبوط ادارہ بن چکا ہے اور میڈیا پروگرام سے متعلق کسی بھی خبر یا شکایت کو نشر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کرے تاکہ غیر مصدقہ اطلاعات سے ادارے کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی ادائیگیوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو، انسانی مداخلت کم ہو اور مستحق خواتین کو رقوم محفوظ اور آسان طریقے سے مل سکیں۔ ان کے مطابق بی آئی ایس پی کی ڈیجیٹل سم صرف مجاز دفاتر سے مفت جاری اور فعال کی جا رہی ہے، جو مستحق خواتین کے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹ سے منسلک ہوگی، جبکہ ہر قسط کی منتقلی اور رقم نکلوانے کی تصدیق براہِ راست موبائل فون پر موصول ہوگی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بتایا کہ آئندہ قسط سے انٹرآپریبلٹی کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت مستحق خواتین ملک بھر میں اپنے قریب ترین مجاز ریٹیلر یا بینکنگ ایجنٹ سے ادائیگی وصول کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا نام استعمال کرکے فراڈ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے اور مستحق خواتین کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع پروگرام حکام کو دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی فرد یا اہلکار کو مالی امداد بند یا جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں، تمام ادائیگیاں کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت کی جاتی ہیں۔











