اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ماہانہ بریفنگ میں سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان

0

اقوام متحدہ، 27 اگست (اے پی پی): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ماہانہ بریفنگ میں پاکستان کے مستقل مندوب اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کی صورتحال ایک نہایت نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ہم دو ایسے خطرناک اور باہم تقویت دینے والے رجحانات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اول، بین الاقوامی قانون کی منظم خلاف ورزیاں بلاخوف و خطر جاری ہیں۔ دوم، زمینی حقائق پر دانستہ اور غیر قانونی اقدامات ایک قابلِ عمل مستقبل کی فلسطینی ریاست کی علاقائی اور سیاسی بنیادوں، نیز پائیدار امن کے امکانات کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ قابض طاقت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات مل کر موجودہ بحران کو طول دے رہے ہیں اور انسانی مصائب میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

 اس کونسل کے واضح مؤقف اور ان سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے بارہا کیے گئے مطالبات کے باوجود، اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ E1 آبادکاری منصوبے پر پیش رفت، جو عملاً مغربی کنارے کو منقسم کر دے گی، نہایت تشویشناک ہے۔ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے علاقائی تسلسل کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ، یہ منصوبہ ہزاروں فلسطینیوں کو جبری بے دخلی کے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔

 پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسیوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی ہے، E1 منصوبے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ‘‘ایک خطرناک اشتعال انگیزی’’ قرار دیا ہے۔

آبادکاروں کی جانب سے تشدد بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق 2026 کے اوائل میں ہر ماہ تقریباً 190 ایسے حملے رپورٹ ہوئے، جو ناقابلِ قبول ہیں اور جن کے تدارک کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

تقریباً 6 ارب ڈالر کی فلسطینی کلیئرنس ریونیو کی مسلسل روک تھام فلسطینی اتھارٹی کی مالیاتی صورتحال اور بنیادی خدمات کی فراہمی کی اس کی صلاحیت کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ یہ محصولات بلا تاخیر جاری کیے جانے چاہئیں۔

انھوں نے قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف اور اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف کی جامع بریفنگز پر ان کا شکریہ ادا کیا اور رے برن کے بیان کا بھی خیرمقدم کیا، بالخصوص ان کی جانب سے اس کونسل کو اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کا خصوصی طور پر نوٹس لیا۔

انھوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی بدستور غیر متزلزل ہے۔ ہم وقار، انصاف اور حقِ خودارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خطے کے تمام عوام کے لیے امن کی واحد قابلِ عمل راہ ایک منصفانہ اور جامع امن ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی جواز کی بنیاد پر قائم ہو،اور جس کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔