چیئرمین این ڈی ایم اے کا پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس کا دورہ، پنجاب میں مون سون اور سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ

2

لاہور، 3 اگست (اے پی پی): چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل (ر) انعام حیدر ملک (ہلالِ امتیاز ملٹری) نے پیر کے روز پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں صوبائی وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ خواجہ سلمان رفیق اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے نے صوبائی ایمرجنسی کنٹرول سنٹر کا معائنہ کیا اور ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پنجاب میں مون سون بارشوں، ممکنہ سیلابی صورتحال، حفاظتی اقدامات، کلائمیٹ چینج، کیپیسٹی بلڈنگ، ریسورس مینجمنٹ اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔

 اجلاس میں این ڈی ایم اے کی ٹیکنیکل ٹیم اور متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت پنجاب کو سیلابی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت، ریسکیو 1122، لائیو سٹاک اور دیگر متعلقہ ادارے فیلڈ میں مکمل طور پر متحرک ہیں جبکہ انتظامیہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ادارے کو اربوں روپے مالیت کے جدید آلات سے لیس کیا گیا ہے جبکہ مختلف شہروں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے نئے ویئر ہاؤسز قائم کیے جا رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کی نسبت رواں سال پی ڈی ایم اے کی تیاریاں مزید مؤثر اور بہتر ہیں ۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل (ر) انعام حیدر ملک نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق این ڈی ایم اے تمام صوبوں کے ساتھ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو اور دیگر متعلقہ اداروں کا ہنگامی حالات میں ردعمل قابلِ تحسین ہے جبکہ سٹرکچرل کولیپس اور دیگر ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام افسران فیلڈ میں الرٹ ہیں، مون سون سیزن اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے زیر زمین واٹر سٹوریج ٹینکس تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ واسا کو جدید مشینری اور آلات سے لیس کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے واسا کا دائرہ کار دو شہروں سے بڑھا کر 41 شہروں تک وسیع کر دیا ہے۔