سی پیک جائزہ کمیٹی کا 91واں اجلاس،اہم منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی لانے کی ہدایت

6

اسلام آباد، 05 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سی پیک منصوبہ جات جائزہ کمیٹی اور قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کا 91واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بنیادی ڈھانچے، توانائی، پیٹرولیم، آبی وسائل، خوراک و زراعت، مشترکہ ورکنگ گروپس (جے ڈبلیو جیز) اور خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

 اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک 2.0 پاکستان کے لیے ترقی کے نئے امکانات لے کر آیا ہے،جس کے ذریعے سی پیک 1.0 کے دوران توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی سرمایہ کاری سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ سی پیک 2.0 کے تحت ترقی، روزگار،انوویشن، ماحول دوست ترقی اور علاقائی روابط پر مشتمل پانچ راہداریوں پر منصوبوں کے مؤثر اور تیز رفتار نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کو بیجنگ میں پاکستان مشن اور مختلف مشترکہ ورکنگ گروپس کے کنوینرز نے آئندہ مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاسوں اور پندرہویں جوائنٹ کواپریشن کمیٹی  اجلاس کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ متعلقہ کنوینرز سے مشاورت کے بعد اجلاسوں کا کیلنڈر حتمی شکل دے کر بیجنگ میں پاکستان مشن کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ چینی حکام کے ساتھ بروقت رابطہ کاری اور مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں وزارتِ بحری امور اور حکومتِ سندھ نے کراچی کوسٹل کمپریہینسو ڈویلپمنٹ زون منصوبے پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اپنی آراء اور سفارشات پیش کر کے تمام زیرِ التوا امور کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشتوں پر طے شدہ شرائط اور قواعد کے مطابق عملی درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ معاہدے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ بروقت عملی نتائج سامنے آئیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، وزارتِ بحری امور اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہدایت کی کہ چینی کمپنی کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کر کے تکنیکی مسائل کا فوری حل نکالا جائے اور منصوبے کی تکمیل کے لیے مستقل رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں چین میں ایک ہزار زرعی گریجویٹس کی تربیت کے پروگرام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ تربیت یافتہ نوجوانوں کی حاصل کردہ مہارتوں کو پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تربیت یافتہ گریجویٹس کی تخصص، تعیناتی اور مستقبل کے کردار سے متعلق جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے تربیتی پروگراموں کو قومی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی، معیاری بیجوں کی تیاری، زیادہ پیداوار دینے والی اقسام، ڈیجیٹل زرعی توسیعی خدمات، مصنوعی ذہانت پر مبنی زراعت اور کواپریٹو فارم مینجمنٹ جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وفاقی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ زرعی شعبے کی حقیقی ضروریات کے مطابق آئندہ پانچ برسوں کے لیے انسانی وسائل اور شعبہ جاتی ترقی کا جامع روڈ میپ تیار کیا جائے۔

 اجلاس میں گوادر بندرگاہ اور فری زون کے لیے بجلی کی فراہمی کے استحکام سے متعلق منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے صنعتی ترقی کے لیے قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باقی ماندہ امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور بنیادی ڈھانچے کی بروقت تکمیل کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ گوادر کے صنعتی علاقوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) نے اجلاس کو بتایا کہ قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) فیز دوم کے مالیاتی انتظامات پر آئندہ ورکنگ گروپ کے اجلاس، جو اگست کے اختتام پر متوقع ہے، میں غور کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ 2028 کی مقررہ مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیاتی معاملات آئندہ اجلاس میں حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مالیاتی منظوری میں مزید تاخیر ہوئی تو دیامر بھاشا ڈیم کی جھیل میں سڑک کے زیرِ آب آنے سے بچانے کے لیے منصوبے پر ملکی وسائل سے فوری تعمیراتی کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ منصوبے کے ٹینڈرنگ عمل میں پاکستان کی معروف تعمیراتی کمپنیوں کی شمولیت کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے۔

اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری منصوبہ بندی سمیت وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ مواصلات، اقتصادی امور ڈویژن، پاور ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن، وزارتِ بحری امور، وزارتِ صنعت و پیداوار، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سی پیک سیکریٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔