اسلام آباد، 3 اگست (اے پی پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آج اسلام آباد میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم نے نجکاری پروگرام کے تحت طے شدہ تمام اہداف اور ٹائم لائنز پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنانے اور تمام متعلقہ وزارتوں و اداروں کو باہمی رابطے سے کام کرنے کی سخت ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ(زیڈ ٹی بی ایل) کی نجکاری کا طریقہ کار اس انداز میں وضع کیا جائے کہ بینک کا بنیادی مقصد اور زرعی شعبے میں اس کا کردار برقرار رہے اور نجکاری کے بعد بھی چھوٹے و درمیانے درجے کے کسانوں کو زرعی قرضوں اور مالی وسائل کی فراہمی پر بینک کی توجہ مرکوز رہے، کیونکہ کسانوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ملک کی معاشی ترقی اور غذائی تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اجلاس میں وزارتِ نجکاری کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت کے نجکاری پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 27 سرکاری ادارے تین مختلف مراحل میں نجکاری کے ایجنڈے میں شامل ہیں، جن میں سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) اور فرسٹ ویمن بینک کا فنانشل کلوزنگ کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور پی آئی اے کی پہلی فنانشل کلوزنگ اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی 29 جون 2026 کو مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی نجکاری پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی مشتہر کیا جا چکا ہے جس میں بین الاقوامی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے دستاویزات جمع کرانے کی آخری تاریخیں بالترتیب فیسکو کے لیے 7 اگست، گیپکو کے لیے 21 اگست اور ائیسکو کے لیے 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہیں۔
اس اہم جائزہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیرِ وزیراعظم محمد علی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











