وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (نیفسا) کی فعالیت کا جائزہ اجلاس

4

اسلام آباد،3اگست(اے پی پی): وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی  زیرصدارت نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی (نیفسا) کی فاعلیت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتھارٹی کو فعال بنانے کی سمت میں ہونے والی پیشرفت اور زرعی تجارت کے لیے ایک جدید ریگولیٹری فریم ورک کے قیام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے ٹیکنالوجی سے لیس، شفاف اور سنگل ونڈو سسٹم کے ذریعے زرعی درآمدات  و برآمدات کو آسان بنانے میں نیفسا کے کردار پر تبادلہ خیال کیا، جس کا مقصد ریگولیٹری کارکردگی کو بہتر بنانا، خوراک کی حفاظت کی نگرانی کو مضبوط کرنا، کاروبار میں آسانی فراہم کرنا اور موجودہ انتظامی مراحل کو آسان بنانا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و فوڈ سیفٹی احمد عمیر، سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی عامر علی احمد، ڈائریکٹر جنرل نیفسا اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی، جنہوں نے اتھارٹی کی عملی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ کے مطابق، نیفسا کو ایک جدید ترین ریگولیٹری اتھارٹی کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے جو زرعی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے ایک سنگل ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی، جس سے تجارت سے متعلق امور کی پروسیسنگ زیادہ تیز، موثر اور شفاف ہو سکے گی۔ معزز اسٹیک ہولڈرز کو بروقت رہنمائی اور سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک مخصوص نیفسا ہیلپ لائن، مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ویب سائٹ اور سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی متعارف کروائے جائیں گے۔ اتھارٹی کے اگلے چند ماہ میں مکمل طور پر فعال ہونے کی توقع ہے۔

بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نیفسا میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مبنی جدید گورننس اور انسانی وسائل کا نظام متعارف کروا رہی ہے۔ بھرتیوں کا عمل ایک آزاد ریکروٹمنٹ اور اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جبکہ نجی شعبے کے ماہرین سمیت اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کو راغب کرنے کے لیے مارکیٹ کے مطابق پرکشش تنخواہیں اور ایک مخصوص پے اسٹرکچر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ملازمین کی تعیناتی تین سالہ کنٹریکٹ پر کی جارہی ہے، جس کا ہر 6 ماہ بعد کارکردگی کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔ تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں ان کے معاہدے کی تجدید کی جا سکے گی۔ تاہم نیفسا کے ملازمین سروس کے کسی بھی مرحلے پر مستقل یا ریگولر تصور نہیں ہوں گے۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ادارہ جاتی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے نیفسا بورڈ آف گورننس کو بااختیار بنایا گیا ہے، جبکہ ڈائریکٹر جنرل اور سیکرٹری بورڈ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ اہم پالیسی امور، بشمول نئی آسامیوں کی تخلیق اور پے اسکیلز میں ترمیم کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوگی۔ اجلاس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ اتھارٹی کی سربراہی فی الوقت ایک قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کر رہے ہیں، جبکہ نجی شعبے سے مستقل ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کا عمل جلد مکمل ہوگا۔

شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن سے کسی بھی ملازم کو نیفسا میں بھرتی نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ابتدائی عملی مرحلے کے دوران ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے چند ملازمین عارضی طور پر اتھارٹی کی معاونت کریں گے۔ نیفسا کے نئے بھرتی ہونے والے افسران کو جدید ریگولیٹری اور معائنے کے طریقوں سے آراستہ کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی ماہرین کی نگرانی میں کسٹمز اکیڈمی کراچی میں ٹریننگ کروائی جارہی ہے۔

اجلاس میں نیفسا کے ٹیکنالوجی پر مبنی انسپکشن سسٹم کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے تحت انسپکٹرز درآمد کنندگان یا کلیئرنگ ایجنٹس سے براہِ راست رابطے کے بغیر زرعی سامان کی کھیپ کا معائنہ کریں گے۔ انسپکشن رپورٹس کی توثیق کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ سے لیس ڈجیٹل ورک فلو کا مقصد ریگولیٹری امور میں شفافیت، جوابدہی اور دیانت داری کو یقینی بنانا ہے۔

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے نیفسا کے قیام میں ہونے والی پیشرفت کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ایک عالمی معیار کا ادارہ بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے جو پرانے نظام کی جگہ ایک موثر، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک قائم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیفسا پاکستان کے زرعی شعبے میں سب سے اہم ادارہ جاتی اصلاحات میں سے ایک ہے اور یہ تاخیر کو کم کر کے، ریڈ ٹیپزم کو ختم کر کے اور معیاری ریگولیٹری خدمات کو یقینی بنا کر پودوں، بیجوں اور دیگر زرعی مصنوعات کی تجارت کرنے والے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے کاروباری ماحول کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گی۔

وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ نیفسا کے قیام کے پہلے ہی دن سے دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت، اور قوانین و اخلاقی معیارات کی سختی سے پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ آگاہی مہمات کے ذریعے زرعی تاجروں، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو متحرک کریں تاکہ وہ اتھارٹی کی خدمات سے مکمل طور پر باخبر رہیں اور نیفسا کے فعال ہوتے ہی فوری طور پر مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ اتھارٹی پاکستان کے زرعی تجارتی نظام کو جدید بنانے، ملک کے ریگولیٹری نظام پر بین الاقوامی اعتماد کو بڑھانے اور پائیدار اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔