وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی گوئی ژو کے وفد سے ملاقات، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور لوکل مینوفیکچرنگ کیلئے بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کی تجویز

5

لاہور، 29 اگست (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چین کے دورے کے دوران گوئی ژو کے شہر گوئی یانگ میں انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو کے موقع پر پارٹی سیکرٹری ہی زونگ یو اور چینی وفد سے ملاقات کی، جس میں پنجاب اور گوئی ژو کے درمیان ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور لوکل مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بیرونی سرمایہ کاری کے لیے تیار اور خواہاں ہے اور چین کے ساتھ ترقی اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
مریم نواز شریف نے ڈیجیٹل کوآپریشن، مصنوعی ذہانت اور سمارٹ ایگریکلچر کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے طبی تشخیص کے شعبے میں بھی تعاون کی تجویز دی۔ انہوں نے گوئی ژو کے وفد کو لاہور کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ چینی وفد متعلقہ صوبائی محکموں، یونیورسٹیوں، چیمبر آف کامرس اور ممکنہ کاروباری شراکت داروں سے ملاقات کرے تو انہیں خوشی ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے دنیا کی سمت تبدیل کر رہا ہے اور گوئی ژو میں ہونے والی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی قابل تقلید ہے۔ ”ہم چین کے تجربات اور کامیابیوں سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ گوئی ژو کی خوبصورتی، ترقی اور قابل ذکر تبدیلی متاثر کن ہے۔“
انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کا معاشی محور، بڑی زرعی اور صارف منڈی ہے، جبکہ گوئی ژو ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے حوالے سے نمایاں تجربہ رکھتا ہے۔ دونوں خطوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرکے باہمی فائدے کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کی تاریخی دوستی کو ٹھوس منصوبوں، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، روزگار، جدت اور مشترکہ انسانی فلاح کے حقیقی فوائد میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے قومی تعلقات کو صوبائی اور عوام سے عوام کی سطح پر مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کا وژن، فولادی عزم اور کامیابی کے لیے انتھک جستجو قابل تقلید ہے۔ وہ ذاتی طور پر صدر شی جن پنگ کے مشترکہ خوشحالی، مشترکہ انسانی اہداف، سلامتی، استحکام اور تمام اقوام کی خودمختاری کے فلسفے کی پرجوش پیروکار ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب اور گوئی ژو کے درمیان تعلقات کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ دونوں خطوں میں وسیع انسانی وسائل، زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ گوئی ژو کے ساتھ روایتی معاشی ماڈل سے آگے بڑھ کر زیادہ پیداوار، ویلیو ایڈڈ مصنوعات، ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے اور گزشتہ اڑھائی برس کے دوران انتھک محنت سے نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ صوبے میں 50 ہزار سڑکوں کی تعمیر، مرمت، بحالی اور توسیع کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ پہلی مرتبہ مکمل الیکٹرک موبیلٹی انفراسٹرکچر بھی موجود ہے۔ چین سے تیار کردہ ماحول دوست الیکٹرو بسیں پنجاب میں عوام کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ماضی میں تین ماہ تک فضائی آلودگی اور سموگ کا سامنا رہتا تھا، تاہم گزشتہ دو برس سے سموگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ”سموگ کے خاتمے کے لیے ہم نے چین کی کامیابی سے سبق سیکھا اور مسلسل سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کی سب سے بڑی زرعی مارکیٹ اور فوڈ باسکٹ ہے، ملک کی مجموعی زرعی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ صوبے میں 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل 65 فیصد نوجوان افرادی قوت موجود ہے، جو ترقی اور صنعتی و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک بڑا اثاثہ ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے بھی آگے بڑھ رہا ہے اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے اے آئی آفس قائم کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔ ہواوے اور علی بابا کی میڈیکل سروسز اور اختراعات سے سیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔ پنجاب میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل کینسر ہسپتال بھی مریضوں کے لیے امید کا مرکز بنے گا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے طبی تشخیص کے شعبے میں تعاون کے امکانات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ ترقی، تعاون اور باہمی حمایت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے قائم ہونے والا مشترکہ ورکنگ گروپ 12 ماہ میں مکمل منصوبہ تیار کر سکتا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ ”ہم جانتے ہیں کہ گوئی ژو کے پاس ٹیکنالوجی، عزم اور مشترکہ انسانی فلاح و بہبود کا فلسفہ ہے، جبکہ پنجاب کے پاس نوجوان آبادی، صلاحیت، بڑی مارکیٹ اور اربن ڈویلپمنٹ کا عزم ہے۔“ انہوں نے کہا کہ گوئی ژو اور پنجاب کی صلاحیتیں ایک دوسرے کے لیے موزوں ترین ہیں۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب میں مقیم چینی شہریوں کی حفاظت، سلامتی اور سہولت کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کا دورہ پنجاب اور گوئی ژو کے تعلقات میں ایک نئے عملی باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
پاک چین دوستی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور چین اس سال اپنے مثالی سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ پاک چین دوستی صرف دو حکومتوں یا دو ممالک کے درمیان تعلق نہیں بلکہ دونوں اقوام کے دلوں، عوام اور باہمی اعتماد پر قائم مضبوط رشتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کو پاکستانی قیادت کی کئی نسلوں نے پروان چڑھایا ہے۔ ان کے والد محمد نواز شریف نے ہمیشہ پاک چین تعلقات کو خصوصی اہمیت دی، جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک چین تعلقات اور اقتصادی شراکت داری کے لیے مسلسل اور انتھک محنت کی۔ ”پاک چین دوستی کو آگے بڑھانے کا اعزاز اب مجھے حاصل ہوا ہے۔“
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چین کے لیے مزید کامیابیوں اور چینی عوام کے بہتر مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور پاک چین دوستی کے مزید مضبوط اور مستحکم ہونے کی دعا کی۔