پاکستانی معیشت درست سمت میں گامزن، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اولین ترجیح ہے، ہارون اختر خان

4

لاہور، 29 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، حکومت صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، معاشی استحکام کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے جبکہ کاروباری برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں صنعتی ترقی کا پہیہ مزید تیزی سے گھوم سکے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور بڑی سنجیدگی سے ملک و قوم کی بہتری کے لیے مصروف عمل ہیں ۔وہ ہفتہ کے روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، وفاقی سیکرٹری صنعت سیف علی انجم، سی ای او سمیڈا نادیہ جہانگیر سیٹھ، لاہور چیمبر کے سینئر عہدیداران، معروف صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب کا مقصد حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانا اور موجودہ معاشی و صنعتی چیلنجز کے حل کے لیے مشاورت کو فروغ دینا تھا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے پر یقین رکھتی ہے کیونکہ پالیسیوں کا تسلسل ہی سرمایہ کاروں کو طویل المدتی اعتماد فراہم کرتا ہے۔ حکومت کی مثبت اور کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ معیشت درست ٹریک پر واپس آ چکی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ اس رفتار کو برقرار رکھا جائے تاکہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے بینک رپٹسی قانون متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ دیوالیہ ہونے والے صنعتی یونٹس کو قانونی و مالی تحفظ فراہم کرکے ان کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو استحکام ملے گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی محفوظ اور پیدا ہوں گے۔معاون خصوصی نے صنعتکاروں کو یقین دلایا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی اور ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے آنے والے دنوں میں کاروباری طبقے کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافہ صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اس لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر کاروباری مسائل کا حل حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مثبت کاموں کو سوشل میڈیا پر بعض اوقات غلط رنگ دیا جاتا ہے اور 90 فیصد غلط چیزیں پیش کرکے عوام کی ذہن سازی کی جاتی ہے تاہم کاروبار کو سیاست میں نہیں لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر ا کر بڑی خوشی ہوتی ہے اس چیمبر نے ملک کو بڑے بڑے سیاستدان دیے ہیں، وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم بھی لاہور چیمبر کے صدر رہ چکے ہیں۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور کاوشوں سے ملک میں استحکام پیدا ہوا ہے۔ پوری دنیا اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور ملک کو عبرتناک شکست دی۔ پاکستان کو دنیا میں اتنا بڑا رتبہ ملنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جانے پر پاکستانیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ اللہ تعالی کی جانب سے پاکستان کے لیے بڑی عزت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پوری دنیا جنگ کی طرف جا رہی تھی تو اسے امن میں بدلنے کے لیے پاکستان کو چنا گیا جو کوئی معمولی بات نہیں۔ انہوں نیکہاکہ پاکستان نے دفاعی میدان میں اپنی صلاحیت منوائی ہے اور اب ہمیں معاشی طور پر بھی مضبوط ہونا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اور آئی ایم ایف پروگرام میں جانا ناگزیر تھا جس کے باعث صنعت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم حکومت کی مثبت اور کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث حالات بتدریج بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موٹرویز کو دیکھ کر نواز شریف کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کیونکہ ایسے ایسے علاقوں میں موٹرویز تعمیر کی گئیں جہاں عام سڑک بننے کا بھی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت نے صنعتی و معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں پالیسیاں متعارف کرائی ہیں، جن میں جیم اینڈ جیوری اور آٹو پالیسی شامل ہیں جبکہ سولر پالیسی کے نتیجے میں ملک میں سولر پلیٹس کی تیاری کا کام بھی شروع ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف سمیڈا کے حوالے سے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتے ہیں اور چھوٹے کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔ چھوٹے کاشتکاروں کے مسائل بھی حل کیے جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب سمیڈا بند ہونے کے قریب تھا تاہم وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی کے باعث سمیڈا میں انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم دنیا کے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران پاکستانی کاروباری افراد کو ساتھ لے کر جاتے ہیں اور ان کی غیر ملکی کاروباری شخصیات کے ساتھ بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں۔ حکومت نے مختلف پالیسیوں کی تیاری کے لیے 64 اجلاس کیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی۔معاون خصوصی نے کہا کہ سوشل میڈیا دیکھ کر ناامید ہونے کی ضرورت نہیں، کاروبار کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ 25 کروڑ کی آبادی کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں، ہمیں اقتصادی طور پر مضبوط ہونا ہوگا۔ پاکستان دفاعی طور پر مضبوط ہوا ہے اور اب معاشی طور پر مضبوط ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 90 فیصد روزگار نجی شعبہ فراہم کرتا ہے اگر نجی شعبہ مضبوط ہوگا تو ملک سے بے روزگاری کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ون ونڈو آپریشن کا نظام متعارف کرا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو مختلف سرکاری اداروں کے چکر لگانے سے نجات مل سکے۔ کاروباری افراد کو سرکاری اداروں کی بے جا مداخلت اور غیر ضروری تحقیقات سے بچانے کے لیے مثر قانون سازی بھی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد ایسا سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے جہاں سرمایہ کار خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کریں۔ہارون اختر خان نے بتایا کہ ایک جامع صنعتی پالیسی پر کام جاری ہے جس کا مقصد صنعتی ترقی کے لیے واضح اور دیرپا روڈ میپ فراہم کرنا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے اور کرنسی کے غیر قانونی اخراج پر قابو پانے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کار بھی اعتماد کے ساتھ وطن واپس آئیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صنعتکار توانائی بحران، بلند شرح سود، سکلز ڈویلپمنٹ میں کمی اور ریگولیٹری مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر حکومت ان کے مسائل آئندہ 30 روز میں ترجیحی بنیادوں پر حل کر دے تو کاروباری برادری قومی معیشت میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سکلز ڈویلپمنٹ کے شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں ہنرمند افرادی قوت کی کمی دور کی جا سکے۔ انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کی تقریب میں شرکت کو کاروباری برادری کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت اور صنعتکار باہمی مشاورت سے پاکستان کی معاشی و صنعتی ترقی کا سفر مزید تیز کریں گے۔تقریب کے اختتام پر شرکا نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کی جانب سے پیش کیے گئے اقدامات کو سراہا اور حکومت پر زور دیا کہ اعلان کردہ اصلاحات پر جلد از جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ملکی معیشت مزید مضبوط ہو اور پاکستان صنعتی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو سکے۔ تقریب سے سابق صدر لاہور چیمبر میاں انجم نثار، سیکرٹری انڈسٹری سیف علی انجم، سینئر نائب صدر لاہور چیمبر تنویر احمد شیخ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اخر میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے صنعتکاروں کے مسائل سنے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔