اسلام آباد،05اگست(اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان طے پانے والے اقدامات دونوں ممالک کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے جبکہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کے فروغ اور سالانہ تجارتی حجم کو دس ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان۔ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مزید کہا کہ تجارت میں آسانی، کسٹمز تعاون، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور سرحدی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے اقدامات سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، جبکہ بالخصوص جلد خراب ہونے والی تجارتی اشیا کی نقل و حمل مزید مؤثر بنائی جا سکے گی۔ اس موقع پر ایرانی وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے بھی دوطرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور اقتصادی و تجارتی تعاون کے مزید فروغ کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر ڈاکٹر محمد اتابک نے کی۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں وزراء نے مذاکرات کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر مشتمل متفقہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
اجلاس میں مجوزہ پاکستان۔ایران آزاد تجارتی معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں قواعدِ اصل، ٹیرف میں مرحلہ وار کمی اور مصنوعات کی فہرست سے متعلق امور شامل تھے۔ دونوں ممالک نے بارٹر ٹریڈ کے فروغ، کاروباری برادری کے درمیان روابط مضبوط بنانے، صنعتی تعاون اور سرمایہ کاری میں اضافے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور مشترکہ سرحدی منڈیوں کو فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں وزراء نے طے شدہ فیصلوں پر بروقت عمل درآمد اور باہمی رابطوں کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک کے وفود نے یادگاری تحائف کا تبادلہ کیا اور پاکستان و ایران کی دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔











