*پنجاب میں پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم* *سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت محکمہ داخلہ پنجاب میں اہم اجلاس* *پہلے مرحلے میں لاہور کو “بیگرز فری سٹی” بنانے اور بھکاری مافیا کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کیلئے سیف سٹی اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کو ٹاسک دیا گیا* *بھکاریوں کے ہینڈلرز کے خلاف کارروائی ناگزیر؛ مہم میں جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے: سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی* *شہری پیشہ ور بھکاری مافیا کی اطلاع 15 پر دیں؛ شناخت صیغہ راز میں رہے گی*

4

لاہور یکم اگست:( اے پی پی ) حکومتِ پنجاب نے صوبہ بھر میں پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف منظم اور نتیجہ خیز کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے محکمہ داخلہ میں اہم اجلاس کی صدارت کی۔ پہلے مرحلے میں لاہور کو بھکاری مافیا سے پاک کرنے کیلئے متعلقہ اداروں کو مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری داخلہ نے عوامی مقامات پر پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت کی۔ بھکاری مافیا کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کیلئے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کو ٹاسک دے دیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ قانون کے مطابق پنجاب میں زبردستی بھیک منگوانا ناقابل ضمانت جرم ہے۔ اس مقصد کیلئے پنجاب میں ترمیم شدہ The Punjab Vagrancy Ordinance 1958 نافذ العمل ہے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس میں ہدایت کی کہ لاہور کو “بیگرز فری سٹی” بنانے کیلئے تمام ادارے مشترکہ آپریشن کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیشہ ور بھکاریوں کے ہینڈلرز کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب نے پیشہ ور بھکاریوں اور مافیا چیفس کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلئے قانون میں ترامیم کی ہیں۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سزاؤں اور جرمانے میں کئی گنا اضافہ بھکاری مافیا کی حوصلہ شکنی کریگا۔ تمام متعلقہ ادارے یقینی بنائیں کہ معصوم بچوں، بزرگوں اور خواتین سے زبردستی بھیک منگوانے والے سخت سزا پائیں۔ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے مزید ہدایت کی کہ گرفتار بھکاری مافیا کو بہترین پراسیکیوشن کے ذریعے سخت سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے پیشہ ور بھکاری مافیا کا تدارک یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف مہم میں جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلیجنس کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ بار بار گرفتار ہونے والے پیشہ ور بھکاریوں کا ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے۔ اسی طرح ہر ضرورت مند، مفلس و نادار شخص جو ویلفئیر ہوم میں آئے انکا ڈیٹا بیس اپڈیٹ رکھا جائے۔ سیکرٹری داخلہ نے ہدایت کی کہ ہاٹ سپاٹ مقامات کی نشاندہی کر کے مؤثر کارروائیاں کی جائیں۔ سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب ویلفئر ہومز کو معاشرے کی فلاح کا مرکز بنا رہی ہے۔ مستحق، نادار اور ضرورت مند افراد کی فلاح کیلئے ویلفئیر ہومز کی استعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ویلفئیر ہومز میں ضرورت مند افراد کی خوراک، صحت اور رہائش کے بہترین انتظامات کیے جائیں۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ہدایت کی کہ ویلفئیر ہومز میں کم عمر بچوں کی تعلیم کے بھی بہترین انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ویلفئیر ہومز میں ضرورت مند افراد کو مختلف ہنر بھی سکھائے جائیں گے تاکہ وہ مستقبل میں مالی طور پر خود کفیل ہو سکیں۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی امداد کیلئے سول سوسائٹی کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ شہری پیشہ ور بھکاری مافیا کے اطلاع 15 پر دیں۔ اطلاع دینے والوں کی شناخت صیغہ راز میں رہے گی۔ اجلاس میں سیکرٹری سوشل ویلفیئر سائرہ عمر، سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، ڈی جی سوشل ویلفیئر ڈاکٹر شہنشاہ فیصل، ڈی جی پروبیشن اینڈ پیرول شاہد اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ، ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل عبدالرؤف، سی ٹی او لاہور سید عبد الرحیم شیرازی، اے آئی جی سرفراز ورک، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر عثمان اقبال، ڈائریکٹر سول ڈیفنس تسنیم علی خان جبکہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی، ایف آئی اے، سکول ایجوکیشن اور محکمہ صحت سے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔