جرمن سفارتخانے کے وفد کی رمیش سنگھ سنگھ اروڑہ سے ملاقات، اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال

0

لاہور، 17 ستمبر(اے پی پی): جرمن سفارتخانے کے وفد نے صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ سے ملاقات کی، جس میں پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، فلاح و بہبود، بااختیاری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جرمن وفد میں وفاقی کمشنر برائے آزادی مذہب و عقیدہ تھامس راشل، جرمن پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن ڈیوڈ ڈرکسن، جرمن سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن آرنو کرچوف اور فرسٹ سیکرٹری پولیٹیکل وائلٹا کزموا انانگ شامل تھے۔

ملاقات کے دوران جرمن وفد نے صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی تقرری کو سراہتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلے سکھ وزیر کی تقرری کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا۔رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور بااختیاری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اقلیتوں کی شمولیت اور فلاح کے لیے جامع پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان کی تیاری جاری ہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ اقلیتی برادریوں کے لیے جاری منصوبوں میں مائنارٹی کارڈ اسکیم نمایاں ہے، جس کے تحت 10 لاکھ افراد کو کارڈ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اقلیتی برادریوں کے لیے سرکاری شادی رجسٹریشن لائسنس متعارف کرائے جا رہے ہیں جبکہ تعلیمی وظائف، سی ایس ایس تیاری پروگرام، تہواروں کے گرانٹس اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے مختلف منصوبے بھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مائنارٹی ویک، کرسمس، دیوالی، ہولی اور ایسٹر سمیت اہم ثقافتی و مذہبی تقریبات بھرپور احترام اور شمولیت کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔ خطے میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے بھی حالیہ عرصے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان میں بنیادی چیلنج غربت ہے جو صرف اقلیتوں ہی نہیں بلکہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کرتی ہے۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ارکان پر مشتمل فعال بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی بھی قائم ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ جرمن حکومت، جرمن دفتر خارجہ اور اسلام آباد میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مکالمے کے فروغ کے لیے تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ پنجاب بھر کے نوجوانوں کو مختلف پروگرامز اور انٹرفیتھ اسٹوڈنٹ ایمبیسیڈر اقدامات کے ذریعے سرگرمیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان پروگرامز میں شریک نوجوان اپنے سیکھے ہوئے تجربات مقامی کمیونٹیز، اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور مدارس میں شیئر کریں گے، جبکہ تربیت حاصل کرنے والے افراد کو ایک وسیع نیٹ ورک آف ایکسپرٹس کا حصہ بنانے کا مقصد بھی پیش نظر ہے۔ملاقات میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، نوجوانوں کی شمولیت اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر مزید رابطے جاری رکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔