درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے مضبوط  کثیر الجہتی تعاون کی اشد ضرورت ہے،وزیراعظم شہباز شریف

5

نیویارک،26ستمبر  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے مضبوط  کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت ہے۔

ہفتہ کو چین کے نائب صدر ہان ژینگ کی میزبانی میں  عالمی ترقیاتی اقدام پر اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیراعظم  نے کہا کہ کووڈ 19 کی وبا کے عروج کے دوران 5 سال قبل صدر شی جن پنگ نے عالمی ترقیاتی اقدام (گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو) پیش کیا تھا، یہ ایک ایسا دور اندیش اقدام تھا جو اپنے وقت سے کہیں آگے تھا، آج دنیا صدر شی جن پنگ کے اس فیصلے کے پس منظر میں کار فرما دانائی اور بصیرت کو تسلیم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2030 کی اس اقدام کی مقررہ مدت پوری ہونے میں اب 4برس رہ گئے ہیں جبکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب پیشرفت اب بھی ناکافی اور سست ہے ، پائیدار ترقی کے اہداف کے لئے مالی وسائل کی بڑھتی ہوئی کمی ، بار بار آنے والی اور پہلے سے زیادہ شدید موسمیاتی آفات ، خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے نے ترقی پذیر ممالک کی کئی دہائیوں کی کامیابیوں کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے، ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے مضبوط کثیر الجہتی تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین اور اس کے عالمی ترقیاتی اقدام نے اس ضمن میں بروقت پیشرفت کی  ،  عالمی ترقیاتی اقدام کا فریم ورک پہلے ہی ترقی پذیر دنیا میں ٹھوس اور عملی فوائد میں تبدیل ہو چکا ہے، اس اقدام نے سب کےلئے فائدے کی حقیقی روح کے مطابق فائدہ پہنچایا ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جی ڈی آئی کی مکمل حمایت کی توثیق کرتا ہے کیونکہ یہ یکجہتی  کرہ ارض کے جنوبی ممالک کے تعاون اور ترقی پذیر ممالک کےلئے ٹھوس نتائج کی فراہمی کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے ، جی ڈی آئی کے اہداف ہمارے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے کی بھی تکمیل کرتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارا تعاون بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ذریعے جاری ہے ، اس کے فلیگ شپ منصوبے  چین پاکستان  اقتصادی راہداری کے ذریعے بھی جاری ہیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے ، جیسے جیسے ہم 2030 کی طرف بڑھ رہے ہیں  پاکستان جی ڈی آئی کے تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون مزید وسیع کرنے کےلئے تیار ہے ، کامیاب منصوبوں کی بڑے پیمانے پر نقل کر کے نیز تعاون کے نئے اور جدت پر مبنی شعبوں کی نشاندہی کر کے تعاون بڑھا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی ترقیاتی اقدام 2030 کے ایجنڈے پر پیش قدمی تیز کرنابھی ضروری ہے، ساتھ ہی ساتھ عالمی حکمرانی اقدام ، عالمی حکمرانی کےلئے ایک زیادہ نمائندہ ڈھانچہ کا متلاشی ہے، ایسا ڈھانچہ جو ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہو۔

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کے یو این 80 اقدام کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی ستون کو مضبوط کرنا چاہئے، اس اقدام کو عملی سطح پر نتائج فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت کو بھی بہتر کرنا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان تمام انتہائی اہم اقدامات کا پختہ حامی  ہے اور رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے مضبوط ترین دوست چین اور گروپ آف فرینڈز کے ساتھی  ممبران کے ساتھ ساتھ مسلسل قریبی تعاون کے منتظر ہیں تاکہ ہم مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور کو آگے بڑھائے۔