نیویارک 25 ستمبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید ترین خطرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صف اول کی ریاست کے طور پر سامنے آ کر اس ناسور کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس طویل جنگ میں پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی ان بے مثال قربانیوں ہی کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے اور امن پسند عالم پاکستان کی ان لازوال قربانیوں کو کسی صورت جھٹلا نہیں سکتا۔
اپنے خطاب کے دوران خطے کو درپیش امن و امان کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔











