اسلام آباد 24 ستمبر ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ایشیا و بحرالکاہل کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈپٹی ریجنل نمائندے مسٹر رابرٹ سمپسن اور ایف اے او کی نمائندہ ریبیکا بیل سے ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان اور ایف اے او کے درمیان زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران پاکستان کی زرعی ترجیحات اور پائیدار غذائی و زرعی نظام، غذائی تحفظ، زرعی ترقی اور کاشتکار برادری کی معاونت کے لیے باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے ساتھ ایف اے او کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ زراعت کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زرعی پیداوار میں بہتری اور زرعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے علم و تجربات کے تبادلے، تکنیکی تعاون، تحقیق اور جدت کی اہمیت پر زور دیا۔
رانا تنویر حسین نے پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والی زراعت کے فروغ کے لیے ایف اے او کے مختلف اقدامات سے مزید استفادہ کرنے کے امکانات پر بھی بات کی۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، موسمیاتی اعتبار سے موزوں زرعی طریقوں، فوڈ پروسیسنگ میں بہتری اور نوجوانوں کی قیادت میں اقدامات کو زرعی شعبے میں نئی مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔
دونوں جانب سے ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم بنانے اور ایسے عملی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو پاکستان کی زرعی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون کے ذریعے تکنیکی مہارت اور عالمی تجربات کو پاکستان کی ضروریات کے مطابق مؤثر اقدامات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
رانا تنویر حسین نے پائیدار زرعی ترقی، بہتر غذائی تحفظ اور کاشتکار برادری کے معاش کو مضبوط بنانے کے لیے ایف اے او کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل روابط سے پاکستان اور ایف اے او کے درمیان دیرینہ شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔











