سلامتی کونسل کے اریا فارمولہ اجلاس میں پاکستان کی حوثی ملیشیا کے تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی شدید مذمت،سفیر عاصم افتخار احمد کا سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

0

اقوام متحدہ، 18 ستمبر ( اے پی پی): پاکستان نے باب المندب آبنائے میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی جہازوں اور جہازوں کے عملے پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے آزادانہ بحری آمدورفت اور تجارتی جہازوں کی سلامتی کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سلامتی کونسل کے اریا فارمولہ اجلاس بعنوان” محفوظ سمندر، مشترکہ سلامتی: بدلتے ہوئے سلامتی کے ماحول میں بحری آمدورفت کی آزادی کا تحفظ “ سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا انعقاد اقوام متحدہ میں بحرین کے مستقل مشن نے کیا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹوں نے واضح کر دیا ہے کہ سمندری بحران عالمی امن و استحکام، توانائی اور غذائی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہاکہ پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے باب المندب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مذموم کوششوں اور آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور بے گناہ بحری کارکنوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے یہ حملے  سمندری سلامتی کو شدید نقصان پہنچاتے اور خطے کے ممالک کے امن اور ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی ” خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی“کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی ملیشیا سے ان حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات ”سمندری سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ “

آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تجارتی جہاز رانی میں خلل اور تجارتی جہازوں پر حملوں پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا اور ”کشیدگی میں فوری کمی، جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی اور آبنائے میں معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی “پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور یہاں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے عالمی توانائی اور کھاد کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ بحرِ ہند کے ایک ساحلی ملک اور اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS)

کے فریق کی حیثیت سے پاکستان” بحری سلامتی اور تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ “

انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ عالمی جہاز رانی تنازعات اور کشیدگی کی بھینٹ نہیں چڑھنی چاہیے، بلکہ اسے عالمی تجارت اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ بنے رہنا چاہیے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کی، جو جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر منتج ہوئیں۔

انہوں نے سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد  تمام زیرِ التوا مسائل کے مذاکرات کے ذریعے حل اور سمندر اور خشکی پر جلد معمول کے حالات کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن کے لیے کوشاں تمام ممالک کے ساتھ مل کر سمندری امن و سلامتی کے فروغ اور تجارتی جہازوں اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔