اسلام آباد، 30 ستمبر ( اے پی پی ): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز فاروق حمید نائیک، شیری رحمان، شاہزیب درانی اور انوشہ رحمان احمد خان نے شرکت کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات نے بھی کارروائی میں حصہ لیا۔
کمیٹی کو اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیوز اے جی پی آرجانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر اسٹاف سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے نشاندہی کی کہ عدالتی حکم سینیٹ سیکرٹریٹ پر لاگو نہیں ہوتا۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سینیٹ کا اپنا آئینی ڈھانچہ اور قواعد و ضوابط ہیں اور یہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں نہیں آتا۔ کمیٹی نے AGPR پر انحصار کرنے کے بجائے سینیٹ کی جانب سے اپنے مالی اور انتظامی معاملات کو آزادانہ طور پر سنبھالنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ سینیٹ سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر اسٹاف کی تنخواہ سے متعلق زیر التواء معاملات کو 14 دنوں کے اندر حل کیا جائے۔
کمیٹی کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)
کی جانب سے 1 فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم کے نتائج اور تاجروں کی کم شمولیت کی وجوہات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات نے کہا کہ حکومت نے تاجروں سے مشاورت کی تھی اور اسی کے مطابق اسکیم متعارف کرائی تھی۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ ماہ ایک ایپلی کیشن تیار کر کے فعال کی گئی تھی جس کے ذریعے تاجر اپنی تفصیلات فراہم کر سکتے تھے؛ تاہم ایپلی کیشن میں کچھ تکنیکی مسائل پیدا ہو گئے تھے جنہیں اب حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ماہ کے اندر 2,195 ریٹیلرز نے ایپلی کیشن کے ذریعے رجسٹریشن کرائی، جن میں 20 کروڑ روپے تک کی سالانہ فروخت والے تاجر شامل ہیں۔
یہ واضح کیا گیا کہ اسکیم کے تحت رجسٹریشن لازمی ہے اور تمام ریٹیلرز کے لیے اپنی آمدنی ظاہر کرنا اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانا ضروری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر مرحلہ وار جرمانے عائد کیے جائیں گے، جس میں پہلے مرحلے پر 10,000 روپے کا جرمانہ شامل ہوگا۔ دوسرے مرحلے پر 25,000 روپے اور تیسرے مرحلے پر 50,000 روپے (جرمانہ/فیس)۔ بعد ازاں، ان کاروباری اداروں کے خلاف نفاذی اقدامات سخت کیے جائیں گے جو ٹیکس تقاضوں کی تعمیل سے مسلسل انکار کریں گے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ کاروباری برادری کو ایف بی آر (FBR)
کے اس نئے اقدام سے آگاہ کرنے کے لیے ایک وسیع آگاہی مہم شروع کی جائے۔ مزید برآں، کمیٹی نے تاجروں کی سہولت کے لیے اخبارات میں اشتہارات شائع کرنے اور مارکیٹوں میں اسکیم سے متعلق مکمل معلومات پر مبنی پمفلٹ تقسیم کرنے کی بھی سفارش کی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس اسکیم کے حوالے سے پہلے ہی وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جا چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ تاجروں میں اب بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جو لوگ ایپلی کیشن کے ذریعے رجسٹریشن نہیں کروائیں گے، انہیں کسی قسم کے جرمانے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کو اب تک 55 لاکھ (5.5 ملین) ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 40 لاکھ (4.0 ملین) گوشوارے موصول ہوئے تھے۔ کمیٹی نے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا نوٹس لیا۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ ملک بھر میں واپڈا (WAPDA)
کے تقریباً 43 لاکھ (4.3 ملین) کمرشل بجلی کے میٹر موجود ہیں، جبکہ اب تک صرف چھ لاکھ کے قریب کمرشل میٹر ہولڈرز نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں تعینات طبی عملے کے لیے سال 26-2025 کے دوران پانچ ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر اعزازیہ (honorarium) دینے کے معاملے پر بات چیت کے دوران، کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارتِ قومی صحت کی خدمات، ضوابط و رابطہ کاری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS)/پولی کلینک کو سینیٹ سیکرٹریٹ میں تعینات طبی عملے کو 26-2025 کا اعزازیہ ادا کرنے کے حوالے سے خط لکھا ہے۔
کمیٹی کو چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے میسرز گم کراپ (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور میسرز اولیو کراپ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے جائز انکم ٹیکس ریفنڈز (واپسی) کو روکے رکھنے کے معاملے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ واجب الادا ریفنڈز 15 دن کے اندر کمپنیوں کو جاری کر دیے جائیں گے۔
کمیٹی نے فاٹا (FATA) اور پاٹا (PATA)
کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں کام کرنے والی فیکٹریوں کو فراہم کردہ 1.12 ٹریلین روپے مالیت کے خام مال سے متعلق ‘کنزمپشن سرٹیفکیٹس’ (consumption certificates) کے اجراء میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس معاملے کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ فاٹا (FATA) اور پاٹا (PATA) کے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں سے متعلق معاملے کو اپنے آئندہ اجلاسوں میں ایک الگ ایجنڈے کے طور پر زیرِ بحث لایا جائے گا۔











