سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کا اجلاس: ایک ارب ڈالر کی ٹیکس چوری، سرحدی اسمگلنگ اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ کے قواعد کا جائزہ

0

اسلام آباد،22ستمبر  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات نے ملک میں ٹیکس چوری، کسٹمز بارڈر سیکیورٹی اور سمندر پار پاکستانیوں کو پاسپورٹ کے اجراء کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے تمباکو سیکٹر میں ایک ارب ڈالر سالانہ کے ٹیکس فراڈ اور سگریٹ چوری کیس کی تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اولڈ پپس ہال، پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹرز طلحہ محمود، سیف اللہ ابڑو، شہادت اعوان، میر دوستان خان ڈومکی، عمر فاروق، جام سیف اللہ خان، پلوشہ خان، دلاور خان، وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ، ایف بی آر اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔کمیٹی نے ضبط شدہ 2,828 سگریٹ کارٹن چوری کیس میں نچلے درجے کے ملازمین اور ڈرائیورز پر ایف آئی آر درج کرنے اور اصل فیکٹری مالکان کو چھوڑنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے نشاندہی کی کہ ابتدائی انکوائری میں نامزد مرکزی کرداروں کو حتمی چالان سے نکال دیا گیا۔ ایف بی آر کے گوداموں کے آڈٹ میں سی سی ٹی وی کیمروں کے فقدان، نامکمل انوینٹری رجسٹرز اور بے ضابطگیوں پر سخت تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیٹی نے سابق فاٹا و پاٹا میں 1,120 ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال کی تحقیقات کے لیے نئی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا اور ایف بی آر و ایف آئی اے کو مشترکہ ورکنگ میکانزم بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں پاسپورٹ رولز 2021 کے قاعدہ 18 کے تحت ڈی پورٹ یا پھنسے ہوئے شہریوں کو ایمرجنسی ٹریول ڈاکیومنٹس کے اجراء اور شناختی تصدیق میں تاخیر پر بھی بریفنگ لی گئی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے بیرون ملک سفارت خانوں کی جانب سے 5 سال کے بجائے 1 سے 3 سال کے قلیل مدتی پاسپورٹ جاری کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کے لیے سینیٹ میں ترمیمی بل پیش کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین نے ایف بی آر اور ایف آئی اے کو ایک ماہ کے اندر تفصیلی انکوائری رپورٹس اور گوداموں کے فزیکل سٹاک رجسٹر پیش کرنے کا حکم دیا۔