سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کا اجلاس

0

اسلام آباد،21ستمبر  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے وفاقی تعلیمی اداروں کے انتظامی معاملات، طلبہ کی ڈگریوں کی تصدیق، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمد اور پارلیمانی نگرانی سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے تعلیمی اداروں کے معاملات کو قواعد کے مطابق حل کرنے اور متعلقہ حکام کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پیر کو کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر خالدہ عطیب اور متعلقہ وزارت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر برائے تعلیم کی عدم شرکت کے معاملے پر چیئرپرسن نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں متعلقہ وزارت کے اعلیٰ حکام کی شرکت ضروری ہے تاکہ ارکان کے سوالات اور عوامی اہمیت کے معاملات پر بروقت جواب اور پیش رفت سامنے آ سکے۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ پارلیمانی کمیٹیوں کو متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کیا جائے تاکہ قانون سازی، نگرانی اور تعلیمی شعبے سے متعلق مسائل کے حل کا عمل مؤثر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں الخیر یونیورسٹی سے متعلق طلبہ کی ڈگریوں کی تصدیق کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کمیٹی کو بتایا کہ یونیورسٹی سے منسلک بعض اداروں کو بند کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں تاہم ان ہدایات کے باوجود داخلوں کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ ادارے کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ بھی مکمل طور پر فراہم نہیں کیا گیا۔ایچ ای سی حکام کے مطابق 2018 تک داخلے نہ لینے کی ہدایات دی گئی تھیں جبکہ یونیورسٹی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ 2011 سے 2016 کے دوران فارغ التحصیل طلبہ کی ڈگریوں کی تصدیق کا معاملہ اٹھا رہے ہیں۔ الخیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے میں قائمہ کمیٹی کے فورم سے بعض جامعات کو ریلیف بھی ملا ہے۔ کمیٹی چیئرپرسن نے یونیورسٹی حکام کے مؤقف کو سننے کا موقع فراہم کیا اور متعلقہ معاملات کے حل کے لئے قانونی فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں ان طلبہ کی ڈگریوں کی تصدیق کے لئے امتحان لینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ متعلقہ افراد دوبارہ ٹیسٹ دیں گے۔اس موقع پر چیئرپرسن کمیٹی نے طویل عرصہ گزرنے کے بعد طلبہ یا فارغ التحصیل افراد سے دوبارہ امتحان لینے کی عملی دشواریوں کی نشاندہی کی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے معاملے میں کمیشن کی فائنڈنگز اور سپریم کورٹ کی ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی واضح ہدایت موجود ہے تو کمیشن اس کے مطابق عمل کرے گا۔کمیٹی نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے تنخواہوں اور پنشن سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ سینیٹ کا اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ سنڈیکیٹ کا اجلاس ہوا ہے۔ کمیٹی ارکان نے سوال کیا کہ اگر متعلقہ فورم کا کورم مکمل نہیں تھا تو اجلاس کس طرح منعقد کیا گیا۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی کی نئی سینیٹ کے ارکان کے نام چند روز میں وزارت کو بھجوا دیئے جائیں گے جبکہ سینیٹ  کی مدت مکمل ہونے کے حوالے سے بھی معاملات زیر غور ہیں۔وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ سنڈیکیٹ سے منظوری کا عمل بعض معاملات میں سال بھر جاری رہ سکتا ہے جبکہ بیرون ملک موجود افراد کو بعض قواعد کے تحت تنخواہیں ادا نہیں کی جا سکتیں۔ کمیٹی نے یونیورسٹی کے انتظامی امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھانے اور متعلقہ فورمز کے بروقت قیام کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس کے دوران چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے مختلف جامعات کے انتظامی معاملات پر بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلرز اور یونیورسٹی انتظامیہ کے معاملات کو قواعد کے مطابق اور مؤثر انداز میں چلایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جامعات کے معاملات کو ضابطے اور ادارہ جاتی نظم کے مطابق بہتر بنانے کے لئے کام کریں گی۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے متعلق مسائل کو متعلقہ فریقین کا مؤقف سن کر، دستیاب ریکارڈ اور قانونی و انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ طلبہ اور تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل میں پیش رفت ہو سکے۔